خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 280 of 682

خطبات وقف جدید — Page 280

280 حضرت خلیفہ المسح الرابع سے اس کا نظارہ کر کے اپنے اندر یہ تبدیلیاں محسوس کر رہے ہیں اور آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ پاکستانی احمدیوں کے دلوں پر کیا گزر رہی ہے اور کس طرح یہ آگ ان کے قلبی جو ہروں کو گندن بناتی چلی جارہی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ آسمان سے کثرت کے ساتھ فضل نازل ہوکر ہر جگہ ان کے ایمان کو بڑھانے کا موجب ہورہے ہیں۔صرف کردار کی پاک تبدیلی نہیں ہے بلکہ نشانات بھی ان پر نازل ہورہے ہیں۔عزم کے نئے نئے پہاڑ سر کر رہے ہیں اور ہر پہاڑ پر خدا کی رحمت اور اسکی رضا کی تجلیات بھی دیکھ رہے ہیں۔بے شمار ایسے واقعات ہیں جن میں سے کچھ میں بیان کر چکا ہوں۔ان سب کا بیان کرنا تو بہر حال ممکن نہیں ہے اس لئے میں نے آج کے خطبہ کیلئے صرف چند واقعات نمونہ چھٹے ہیں۔جہاں تک احمدی مردوں کے کردار کا تعلق ہے پاکستان کے ایک ایسے ضلع میں جہاں جہالت بہت زیادہ ہے وہاں چند نوجوانوں کو محض اس جرم میں پکڑا گیا کہ انہوں نے اذانیں دیں یا انہوں نے السلام علیکم کہا یا مسلمانوں کی طرح Behave کیا یا تبلیغ کی۔یعنی پاکستان میں جرائم کی اب یہ فہرست ہے۔اور قتل و غارت ، زنا، بدکاریاں ظلم ، سفا کی ، آنکھیں نکال لینا، اعضاء کاٹ دینا محرموں کے ساتھ نامحرمانہ تعلقات ، یہ تو اب ادنی ادنی با تیں ہو گئی ہیں۔بڑے بڑے جرائم جو پاکستان کی کورٹ میں اس وقت نمایاں حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور جن کے متعلق صدارتی آرڈینینس جاری ہورہے ہیں، گورنروں کو احکام دیئے جا رہے ہیں کہ خبر داراتنے سنگین جرائم کو کبھی معاف نہیں کرنا۔وہ احمدی بیچارے ان جرائم کے مرتکب ہو گئے تھے ، وہ کھلے عام خدا کا نام لے رہے تھے اور اپنے دشمنوں کو السلام علیکم کہہ رہے تھے، ان کیلئے دعائیں کر رہے تھے اور مسلمانوں کی طرح Behave کر رہے تھے۔یہ جرم بھلا کیسے معاف ہوسکتا تھا۔چنانچہ انہیں پکڑ کر جیل میں پھینک دیا گیا۔ان کے گھر کی حالت کا ذکر میں بعد میں کروں گا، اس وقت میں یہ بتاتا ہوں کہ جب انہیں جیل میں پھینکا گیا تو ان کے کردار میں ایک نئی چمک آگئی۔وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے اندرایسی پاک تبدیلیاں ہو رہی تھیں اور خدا کی خاطر قید ہونے میں ایسا لطف آرہا تھا کہ اردگرد جتنے قیدی تھے ان میں بھی تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہوئیں اور انہیں احمدیت میں دلچسپی پیدا ہوئی ، انہوں نے انکے ساتھ عزت واحترام کے ساتھ سلوک کرنا شروع کیا۔خدا تعالیٰ نے ان میں بعض ایسی روحانی تبدیلیاں پیدا کر دیں کہ اگر یہ واقعات نہ ہوتے اور ان کو احمدیوں سے اتنا قریب کا واسطہ نہ پڑتا تو شاید وہ بدقسمتی سے جہالت کی موت ہی مرجاتے۔چنانچہ ان غیر احمدی قیدیوں میں سے ایک قیدی جو ساٹھ سالہ عمر کو پہنچے ہوئے تھے اور جن پر نہایت سفا کا نہ جرائم کے نتیجہ میں مقدمہ چل رہا تھا، تو جس شخص میں ساٹھ سال میں تبدیلی نہیں پیدا ہوئی خدا