خطبات وقف جدید — Page 276
276 حضرت خلیفہ امسیح الرابع ہو بلکہ بڑھتی رہنے والی سرعت عطا ہو اور دنیا ہمیں ہر سال ایک نئے دور میں داخل ہوتا دیکھے، تیری راہ میں قدم بڑھانے کی ہمیں مزید توانائی نصیب ہو اور تیری طرف حرکت کرنے کیلئے نئے نئے پر ہمیں عطا ہوتے رہیں۔پس ان دعاؤں کے ساتھ ہمیں نئے سال کا آغاز کرنا چاہیے۔جہاں تک اس تبلیغ کے نتائج اور اس امر کا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں روحانی طور پر تقویٰ عطا فرمایا ہے اور ہمیں اپنی رضا بخشی ہے تو اس کے نتیجہ میں ظاہری لحاظ سے کچھ مشکلات بھی دکھائی دیتی ہیں اگر چہ وہ مشکلات بھی دراصل اللہ کا فضل ہی ہیں اور وہ یہ کہ وہ مساجد جو پہلے ہمارے لئے کافی ہوا کرتی تھیں اب کافی نہیں رہیں کچھ نئے آنے والے آئے ہیں اور کچھ پرانے جو غافل تھے وہ بڑی تیزی کے ساتھ جماعت کی طرف دوبارہ پلٹے ہیں اور ان کا رخ باہر کی بجائے اندر کی طرف ہو گیا ہے چنانچہ وہ مساجد جو گزشتہ دوروں میں مجھے کافی محسوس ہوتی تھیں اب تو اتنی چھوٹی دکھائی دی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ ان سے ہمارے کام کیسے چل سکیں گے۔چنانچہ میں نے تو دو یوروپین مشنز کی تحریک کی تھی لیکن اب معلوم ہو رہا ہے کہ صرف دو نہیں یہ تو ایک وسیع سلسلہ چلنے والا ہے۔جہاں تک انگلستان کا تعلق ہے خدا تعالیٰ نے آپکو ایک بڑا وسیع مشن عطاء فرما دیا ہے لیکن پھر بھی دوسری ضروریات تو اس سے پوری نہیں ہو سکتیں۔لہذا ہمیں یہاں بھی نئی جگہیں خریدنا پڑیں گی۔اور اس کا ہم جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ایک اور خوشخبری یہ ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے گلاسگو میں ایک بہت عظیم الشان عمارت خریدنے کی توفیق مل گئی ہے جس کے بارے میں وہاں کی جماعت کا ایک حصہ سمجھتا ہے کہ اس سے ہماری ضروریات بہت دیر تک پوری ہوتی رہیں گی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے رب پر بدظنی کر رہے ہیں۔اگر بہت دیر تک ان کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی تو پھر وہ بڑھ نہیں رہے۔اس لئے میری تو دعا ہے کہ ان کی گل ضروریات پوری نہ ہو سکیں۔اتنی جلدی وہ پھیلیں اور نشو نما پائیں اور وہ اس تیزی سے قدم آگے بڑھا ئیں کہ ہم دیکھتے رہ جائیں کہ یہ عمارت چھوٹی ہوگئی اور جماعت اس سے بڑی ہوگئی ہے۔اس لئے اب گلاسگو کی جماعت کو میری خاص نصیحت یہ ہے کہ خدا کی اس نعمت کا شکر اس رنگ میں ادا کریں کہ اس عمارت کو جلد سے جلد بھرنے کی کوشش کریں اور خدا کی رحمت پر توقع رکھیں کہ جب وہ بڑھیں گے تو وہ اور عمارتیں بھی عطا کر دے گا۔خدا تعالیٰ نے اس لحاظ سے کبھی بھی جماعت کو محروم نہیں رکھا۔میرا جرمنی کا سفر خصوصیت کے ساتھ اس لئے تھا کہ وہاں دوسرا ایوروپین مشن خرید نے کیلئے جائزہ لیا جائے لیکن جب ہم ہالینڈ میں اترے تو وہاں کی مسجد کو دیکھ کر ہمیں تعجب ہوا کہ وہ بھی چھوٹی ہوگئی ہے بہت سے لوگ جو پہلے تعلق نہیں رکھتے تھے وہ کثرت کے ساتھ تعلق رکھنے لگے ہیں اور نئے نئے احمدی ان میں