خطبات وقف جدید — Page 275
275 حضرت خلیفة المسیح الرابع نہیں ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ میں ابھی یورپ کے سفر سے آیا ہوں وہاں بھی نوجوانوں میں تبلیغ کی لگن اور جوش حیرت انگیز طور پر ہے۔اور اس طرف طبیعتیں مائل ہو رہی ہیں اس لئے میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ یہ جس کام کی بنیاد پڑگئی ہے کہ ہر احمدی تبلیغ کرے اس کے نتائج اب انشاء اللہ تعالیٰ اس طرح آگے نہیں بڑھیں گے کہ ایک سے دو، دو سے تین اور تین سے چار بلکہ جیسا کہ میری دلی تمنا اور دعا ہے یہ آپس میں ضرب کھانے لگ جائیں۔یعنی دو سے چار اور چار سے آٹھ اور آٹھ سے سولہ اس رفتار سے ہمیں آگے بڑھنا ہے اور اس کے بغیر ہمارا چارہ نہیں ہے۔امر واقع یہ ہے کہ رفتار خواہ کتنی بھی تیز ہو اس کے ذریعہ دنیا میں انقلاب بر پا نہیں ہوا کرتے بلکہ Acceleration کے ذریعہ انقلاب ہوا کرتے ہیں ایک ایکسیلیریشن (Acceleration) ترقی پذیر رفتار کو کہتے ہیں یعنی اگر آپ آج دس میل کی رفتار سے چل رہے ہیں تو کل دس میل نہیں بلکہ دس میل جمع دس میل یعنی بیس میل کی رفتار سے چل رہے ہوں گے اور اس سے اگلے سال ہیں کی رفتار سے نہیں بلکہ ہیں + بیس میل۔تو اس تدریجی رفتار کو انگریزی میں Acceleration کہتے ہیں۔اور دنیا میں جتنا بھی کارخانہ قدرت چل رہا ہے اس کی بنیاد خدا تعالیٰ نے Acceleration پر رکھی ہے کیونکہ بنیادی طور پر انرجی کی صورت Gravitation یعنی زمین یا مادہ کی قوت جاذبہ ہے جسے کشش ثقل بھی کہا جاتا ہے۔اسی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ Acceleration پیدا کرتا ہے اور Energies کی جتنی مختلف شکلیں ہیں خواہ بجلی ہو یا متقناطیس یا کوئی اور شکل وہ بالآخر اسی آخری شکل کی مرہون منت ہے اور دراصل اسی کی بدلی ہوئی مختلف صورتیں ہیں۔تو خدا تعالیٰ نے اپنے نقشہ کی بنیاد Acceleration پر رکھی ہے اور ہمیں متوجہ فرمایا ہے کہ تم قانون قدرت پر غور کرو اور اس سے نصیحت پکڑو اور میری سنت کے راز معلوم کرو اور میرے طریق سیکھو۔پس روحانی دنیا میں بھی نئی عظیم الشان تخلیقات اور نئے نئے کارخانے جاری کرنے کیلئے لازم ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی جاری کردہ اس سنت پر غور کریں اور اسی کو اپنائیں۔پس آئندہ سال کے لئے اگر یہاں انگلستان میں مثلاً ایک سال میں ساٹھ بیعتیں ہوں اور جرمنی میں ایک سو دس یا ایک سو بیس اور ہو جائیں۔تو یہ Stagnation ( یعنی ایک مقام پر کھڑے ہو جانا ) کی علامت ہو گی۔اگر یہاں اس سال دس داعی الی اللہ پیدا ہوئے ہیں تو اگلے سال کم سے کم نہیں ہونے چاہیں یا اس سے بھی زیادہ اور اگر جرمنی میں پچاس احمدی ہوئے تھے تو اگلے سال سو یا اس سے بھی زیادہ ہونے چاہیں۔اسی طرح باقی ملکوں کو بھی میں یہی پیغام دیتا ہوں کہ نئے سال میں اپنے رب سے یہ عہد کریں کہ اے خدا تو نے محض اپنے فضل سے ہمیں جو تیز ! رفتاری بخشی ہے اسے Acceleration میں تبدیل فرما دے، ہمارے ہر کام میں غیر معمولی سرعت ہی نہ