خطبات وقف جدید — Page 257
257 حضرت خلیفہ امسیح الرابع اقتباس از خطاب جلسه سالانه فرموده 27 / دسمبر 1983 سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعایٰ نے فرمایا: وقف جدید کی تحریک حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیماری کے آخری ایام کی تحریک تھی اور اس تحریک کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلوں کے رنگ لگائے اور بڑی تیزی کے ساتھ یہ ترقی کر رہی ہے۔خصوصاً نومسلموں کی خدمت میں اس تحریک نے نمایاں کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔آج بھی اس جلسہ میں دور دور کے علاقوں سے 150 نو مسلم آئے ہوئے ہیں جو اس تحریک کے تابع یہاں اکٹھے ہیں اور اب اسلام کی طرف ہندوؤں کا اس کثرت کے ساتھ رجحان ہو چکا ہے کہ سینکڑوں دیہات میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اسلام کا پودا لگ چکا ہے اور جہاں احمدی نہیں پہنچ سکتا وہاں اللہ کے فرشتے پہنچ جاتے ہیں اور وہ خوابوں کے ذریعہ بھی تبلیغ کرنے لگتے ہیں۔چنانچہ ایک ہندو بھگت کا واقعہ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک ہندو بھگت نے ایک خواب دیکھا کہ ایک بزرگ گھوڑے پر آتے ہیں اور ان کی شکل سے ایسا نور برستا ہے کہ یہ چاہتا ہے کہ میں کچھ پیش کروں اس کے پاس چونکہ کچھ نہیں تو وہاں جنگل کے رواج کے مطابق ڈیلے تلاش کرتا ہے کہ پکے ہوئے ڈیلے ہوں تو میں وہی پیش کروں تو ڈیلے سوکھے اور خراب سے نظر آتے ہیں اتنے میں وہ بزرگ کہتے ہیں یہ لو ڈیلے تو آسمان سے ان کے لئے نہایت تر و تازہ خوبصورت اور سرخ ڈیلے اترتے ہیں اور وہ مجھے دے دیتے ہیں۔یہ خواب دیکھ کر وہ شخص بھول گیا۔پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے اسے ایک احمدی سے ملایا اور یہ چونکہ بیمار تھا اس کی معرفت یہ ہمارے امیر صاحب ضلع تھر پار کر کے پاس دوا لینے آیا۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تصویر لٹکی ہوئی دیکھی تو بے اختیار بول اٹھا کہ یہی تو وہ بزرگ تھے جس پر آسمان سے تازہ سرخ رنگ کے پکے ہوئے ڈیلے اترے تھے اور انہوں نے مجھے دیئے تھے۔(روز نامه الفضل 14 / اپریل 1984ء)