خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 255 of 682

خطبات وقف جدید — Page 255

255 حضرت خلیفہ مسیح الرابع ہیں چنانچہ جن احمدی عورتوں نے اس معاملے میں کمزوری دکھائی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کیسا تھ مجھے یقین ہے کہ ان میں بے حیائی کا کوئی عصر نہیں تھا۔دراصل نفسیاتی کمزوری نے اس میں ایک بہت ہولناک کردارادا کیا ہے۔عورتیں سمجھتی ہیں کہ اگر ہم اس دنیا میں جہاں سے پردے اٹھ رہے ہیں اپنی سہیلیوں کے سامنے برقعہ پہن کر جائیں گی تو وہ کہیں گی کہ یہ اگلے وقتوں کی ہیں ، پگلی ہیں ، پاگل ہوگئی ہیں، یہ کوئی برقعوں کا زمانہ ہے اور یہی بات مردوں کو بھی تکلیف دیتی ہے حالانکہ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ عزت نفس اور دوسرے کا کسی کی عزت کرنا انسان کے اپنے کردار سے پیدا ہوتا ہے، دنیا کی نظر میں لباس کی کوئی بھی حیثیت نہیں رہتی۔اگر کوئی آدمی صاحب کردار ہو تو اس کی عزت پیدا ہوتی ہے اور یہ عزت سب سے پہلے اپنے نفس میں پیدا ہونی چاہیے، عظمت کر دارا اپنے نفس سے شروع ہوتی ہے اور جب اپنے نفس میں عزت پیدا ہو جائے تو پھر دوسروں کی دی ہوئی عزتیں بے معنی رہ جاتی ہیں۔بہر حال یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کی طرف میں آپکو توجہ دلانی چاہتا ہوں۔آپ اپنے کردار کے اندر ایک عظمت پیدا کریں اور اس کا احساس پیدا کریں۔اسکے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا قانون از وہ خود آپ کو آپ کے وجود کے اندر معزز بنادے گا۔اور ایسے معززین کو پھر دنیا کی قطعا کوئی پروا نہیں رہتی ایک کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ہاں دنیا ان کی پرواہ کرتی ہے۔دنیا ان کو پہلے سے زیادہ عزت دیتی ہے۔گھٹیا نظر سے نہیں دیکھتی بلکہ رفعتوں کی نظر سے دیکھتی ہے۔یہ فطرت کا ایک ایسا اٹل قانون ہے کہ جس نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے وہ گواہ ہوگا کہ یہ قانون کبھی نہیں بدلتا۔پس جن بچیوں کے دل میں یہ خوف ہوں ان کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپ ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔آپ نے دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا کرنا ہے۔آپ دنیا والوں سے مختلف ہیں۔اس لئے اپنی ذات میں خوش رہنے کی عادت ڈالیں۔چونکہ ہر کام آپ محض اللہ کر رہی ہونگی اس لئے اپنے متعلق محسوس کریں کہ خدا نے آپ کو عزت بخشی ہے اور آپ کو ایک اکرام بخشا ہے اور جو دُختِ کرام ہو۔اسے دنیا کی عزتوں کی کیا ضرورت ہے۔اس کے باوجود بھی اگر آپ کو کوئی کہتا ہے۔کہ یہ اگلے وقتوں کی ہیں تو آپ کہیں کہ ہاں ہاں۔ہم اگلے وقتوں کی ہیں لیکن ان اگلے وقتوں کی جو حضرت محمد مصطفیٰ صلى الله کے وقت تھے اور وہ اگلے وقت ایسے وقت تھے کہ جن کے سامنے ماضی بھی گزشتہ وقت تھا۔اور مستقبل بھی گزشتہ وقت ٹھہرتا ہے۔محمد مصطفی ﷺ کے وقت میں ہی تو وقت نے رفعت اختیار کی تھی اور زمانی قیود سے آزاد کر دیا گیا تھا۔وہی وقت تھا جو سب سے آگے تھا اور ہمیشہ آگے رہے گا اور انسان کا مستقبل کروڑہا کروڑ سال تک آگے چلتا چلا جائے گا تب بھی مستقبل کا انسان کبھی بھی حضرت محمد مصطفی ﷺ سے آگے