خطبات وقف جدید — Page 207
207 حضرت خلیفتہ مسیح الثالث کا سبب اور ذریعہ بنتے ہیں اور خدا کی نگاہ میں ان کی کوشش مقبول ہوتی ہے ،سعی مشکور ہوتی ہے کیونکہ ان کی کوشش کا نتیجہ ان کی کوشش سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بھی اور دنیا کو بھی ملتا ہے۔یہ ہماری نگاہ دیکھتی ہے اور کئی ایسے ہیں جو کوشش تو بظاہر دین کی راہ میں کر رہے ہیں لیکن بے ثمر کوشش جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور ہیں وہ جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل۔اس کے مقابلے میں جس نے شاید ایک سال میں دینی تعلیم لی وقف جدید کے ماتحت اور جسے ہماری اصطلاح میں معلم کہا جاتا ہے ان میں ایسے ہیں جوان شاہدین سے بہتر کام کر رہے ہیں جنہوں نے جامعہ احمدیہ سے تعلیم حاصل کی اور انہوں نے 7,6 سال لگائے اور ان پر بڑی محنت کی گئی۔خود انہوں نے بھی محنت کی لیکن ان کی کوشش بے نتیجہ ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی سعی ہمشکور سعی نہیں ہوتی۔ہماری جماعت میں صرف ان دوگروہوں کے درمیان ہی موازنہ اور روزمرہ کا ایسا مشاہدہ نہیں جو کیا جاسکتا ہے بلکہ وہ لوگ جنہوں نے نہ جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی نہ انہوں نے وقف جدید میں کم و بیش ایک سال تک تعلیم حاصل کی بلکہ اپنے طور پر ایک طرف انہوں نے تقویٰ میں آگے بڑھنے کی کوشش کی اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا کثرت سے مطالعہ کیا اور تدریس بھی کی اور انہوں نے لوگوں کو بھی کتب کے معانی بتانے کی کوشش کی وہ بعض دفعہ جامعہ کے فارغ التحصیل اچھے اچھے طلباء سے بھی آگے نکل جاتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قبولیت کے حصول کے متعلق کہیں بھی ہمیں یہ شرط نظر نہیں آتی کہ جو جامعہ احمدیہ سے نکلے گا خدا تعالیٰ صرف اسے ہی قبول کرے گا اور نیکی کی دیگر کوششیں خدا کے حضور قبول نہیں کی جائیں گی۔یہ کہیں نہیں لکھا ہوا اور نہ عقل اسے باور کرتی ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ اسلام کے مطابق زندگی گزاری جائے اور خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور جس وقت ہم خدا تعالیٰ کی ذات و صفات کے عرفان کا ذکر کرتے ہیں تو سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ روحانی ترقیات کا گویا ایک نہ ختم ہونے والا میدان ان کے سامنے کھل گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات کو اور نہ صفات کو ہم محدود ہستیاں اپنے احاطہ میں لاسکتی ہیں۔خدا تعالیٰ کی صفات کے غیر محدود جلوے انسان کی محدود کوشش بہر حال اپنے احاطہ میں نہیں لاسکی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ہمیشہ آگے بڑھتے رہنے کا موقع دیا ہے اور جیسا کہ قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے اور حدیث میں بڑی وضاحت سے آیا ہے کہ جتنا جتنا کوئی خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو زیادہ پالیتا ہے اور ان کو ڈھونڈ لیتا ہے اور پہلے کی نسبت اسکے اور زیادہ قریب ہو جاتا ہے اتناہی زیادہ اللہ تعالیٰ ایک بہت ہی بہتر اور پہلے سے اچھے پیار کا جلوہ اس کے اوپر ظاہر کرتا ہے۔یہ ایک ایسی کیفیت ہے جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔لیکن جو لوگ مشاہدہ کرتے ہیں اور اس کو محسوس کرتے ہیں اور جن