خطبات وقف جدید — Page 206
206 حضرت خلیفہ امسح الثالث خطبہ جمعہ فرموده 7 جنوری 1977 ء بیت اقصیٰ ربوہ ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: وقف جدید کے انیس سال 1976ء کے آخر میں ختم ہو گئے اور یکم جنوری 1977ء سے وقف جدید کا بیسواں سال شروع ہوتا ہے۔اس سے قبل میں اسکے آغاز کا دعا کے ساتھ اعلان نہیں کر سکا۔دراصل ہماری زندگی کا ہر مرحلہ دعا سے شروع ہوتا ہے اور حمد ودعا پر ختم ہوتا ہے اور وہ مرحلہ اپنے دور میں دعاؤں کے ساتھ ہی کامیابی کی راہیں دیکھتا ہے۔غرض آج میں وقف جدید کے بیسویں سال کا آغاز کرتا ہوں۔جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ کی تقریر میں بھی دوستوں کو اختصار سے بتایا تھا وقف جدید کا قیام میں سمجھتا ہوں اس لئے کیا گیا تھا کہ ایک مسلمان کا جو کم سے کم دینی معیار ہے اس کو قائم رکھا جاسکے۔اگر چہ معلمین جو وقف جدید میں کام کرتے ہیں ان کا علمی معیار جامعہ احمدیہ سے پاس ہونے والے شاہدین سے بہت کم ہوتا ہے لیکن البہی سلسلوں میں صرف علمی معیار ہی کوئی چیز نہیں ہوتا اس سے زیادہ اہم روحانی معیار ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔دعاؤں کی عادت، خدائے واحد و یگانہ پر کامل تو کل، اسلام کا فدائی ہونا ،نوع انسانی کی خدمت کی تڑپ دل میں پیدا ہونا اور اسی طرح کسی انسان کی جسمانی یا اخلاقی یا روحانی تکلیف کا نا قابل برداشت ہو جانا اصل چیز ہے۔اس قسم کا احساس دل میں پیدا ہو جانا زیادہ اہم ہے علمی معیار سے۔اس معیار کو ہم تقویٰ کا معیار کہہ سکتے ہیں۔اس معیار کے پیدا کرنے کے لئے اور اس کے حصول کے لئے اور اسکے قیام کیلئے اور اس میں آگے بڑھنے کیلئے کسی ” جامعہ" کی ضرورت نہیں ہے۔ہر مسلمان کو ہی اس میدان میں ہمیشہ کوشاں رہنا چاہیے کہ وہ آگے سے آگے بڑھتا چلا جائے لیکن جن لوگوں پر دینی اور روحانی ذمہ داریاں زائد آپڑتی ہیں ان کو اس طرف زیادہ توجہ دینی ضروری ہو جاتی ہے اس لئے ہمیں عملاً یہ نظر آتا ہے کہ جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل بعض شاہد ایسے ہیں کہ حصول علم کے بعد یعنی دینی علمی معیار کافی بلند ہو جانے کے بعد بھی وہ دوسرے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔یہاں بھی اور انڈونیشیا کے بھی بعض نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے اس معیار کو قائم کیا اور پھر وہ دوسرے کاموں میں لگ گئے۔جو شاہد دین کی خدمت پر ہی لگے رہے ان کا جب ہم موازنہ کرتے ہیں تو جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل وہ بھی ہیں کہ ان کی زندگی ہمہ وقت اسلام کی خدمت میں مصروف رہنے والی زندگی ہے اور قوم کو ان پر فخر کرنا چاہیے کہ وہ بہتوں کی بھلائی وو