خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 171 of 682

خطبات وقف جدید — Page 171

171 حضرت خلیفه لمسیح الثالث ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ عقلاً ، نہ فطرتا، نہ شرعاً اور نہ مشاہدہ کے لحاظ سے کسی اور پر تو کل ہو سکتا ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک ایک یہی صداقت ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔تو کل اسی پر کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ وہی حقیقی سہارا ہے۔پس وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ کی رُو سے جس آدمی نے تو کل کرنا ہو خواہ وہ ایک فرد ہو یا قوم ، جس کو بھی یہ احساس ہو کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔مجھے کسی سہارے کی ضرورت ہے تو اس کی عقل بھی اسے یہ مشورہ دے گی ، اس کی فطرت کا بھی یہی تقاضا ہوگا اور بنی نوع انسان کی تاریخ کا بھی یہی نتیجہ نکلے گا کہ ایک ہی ہستی ہے جس پر تو کل کیا جا سکتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔ہم زندہ خدا کی زندہ تجلیات کو دیکھنے والے اور اس یقین پر قائم ہیں کہ ہمیں بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔جس طرح بحیثیت فرد اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اسی طرح بحیثیت جماعت اس نے ہمیں قائم کیا ہے اور جن اغراض کے لئے اس نے ہمیں قائم کیا ہے اور جن راہوں پر وہ ہمیں چلانا چاہتا تھا وہ قد هَدَنَا سُبُلَنَا کی رو سے واضح ہیں۔اس نے ہمیں اپنے راستے دکھائے ہیں۔انسانی فطرت کے نئے تقاضے ہوتے ہیں۔البتہ فطرت کے نئے تقاضا کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسانی فطرت ہی بدل گئی بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جو کچھ رکھا گیا تھا اس کا استعمال بدل گیا کیونکہ انسان کی فطرت میں تھا دوسرے آدمی سے ہمدردی کرنا اور اس کے دُکھوں کا مداوا کرنا۔اگر دنیا کے دُکھ بدل جائیں تو گویا فطرت کے تقاضے نہیں بدل گئے۔پھر ایک نئے طریقے پر نئے دُکھوں کا نیا علاج سوچنا پڑے گا۔پھر وقت کا تقاضا ہے۔بدلے ہوئے حالات میں ہماری قربانیاں اور ہمارے خدمت کے طریق بدل جاتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو اور اپنی محبوب جماعتوں کو نئی راہیں بتاتا ہے اور انہیں نئے طریقے سکھاتا ہے۔نئے نئے طریقوں سے انہیں ترقی پر ترقی دیتا چلا جاتا ہے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی ایک طریقہ یا ایک سبیل یا ایک راہ یا ایک صراط مستقیم ” وقف جدید کی شکل میں ہمارے سامنے رکھی ہے اور وقف جدید کی روح یہ ہے کہ وقف کی روح کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت میں وسعت پیدا کی جائے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود کا دراصل یہی منشا تھا کیونکہ اس سے پہلے جماعتی نظام تو موجود تھا۔تحریک جدید بھی قائم تھی اور وہ اپنے کاموں میں لگی ہوئی تھی جماعت کی ہر ایک تن کا اپنا انتظام تھا اور وہ اپنے کام میں لگی ہوئی تھی لیکن میں نے جہاں تک غور کیا اور میں سمجھتا ہوں یہ میرا اپنا تجزیہ اور استدلال ہے کہ حضرت مصلح موعود کے سامنے ایک طرف تو یہ بات تھی کہ تحریک جدید کا اپنا ایک