خطبات وقف جدید — Page 170
170 حضرت خلیفہ امسح الثالث خطبه جمعه فرموده 7 جنوری 1972 ء بیت المبارک ربوه) تشہد وتعوذ اور سورۃ الفاتحہ کے بعد حضور نے یہ آیت کریمہ بھی تلاوت فرمائی: ط وَمَالَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللهِ وَ قَدْ هَدَنَا سُبُلَنَا ، وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا اذَيْتُمُوْنَا وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ۔(ابراہیم : 13) اور پھر فرمایا: اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے تین اصولی باتیں بیان فرمائی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ عقلاً صرف ایسی ہستی پر تو کل کیا جا سکتا ہے جس کے بغیر کوئی سہارا نہیں اور اس کی مدد سے کامیابی اور فلاح حاصل ہو گی۔اور عمل کے نتائج اچھے نکلیں گے جو ہمیں عمل کی راہیں بھی بتائے یعنی وہ شروع سے ہماری انگلی پکڑے فرمایا وَ مَالَنَا إِلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللهِ وَ قَدْ هَدَنَا سُبُلَنَا اللہ تعالیٰ جس نے ہماری انگلی پکڑی اور ہمیں ہدایت کی راہ یعنی صراط مستقیم پر چلایا اس پر ہم کیسے تو کل نہ کریں۔دوسری بات اس آیت میں یہ بتائی کہ مخالف اور دشمن کی ایذارسانی پر صبر اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ جب انسان نے کسی قادر ہستی کی انگلی پکڑی ہوئی ہوا گر کوئی ایسا قابل اعتماد بھروسہ ہی نہ ہوتو انسان بے صبرا ہو جائے گا کیونکہ انتہائی دکھوں میں ڈالے جانے کے بعد انتہائی تو کل وہی انسان کرسکتا ہے اور پھر تو کل ہی کے نتیجہ میں صبر پیدا ہوتا ہے جسے یہ معلوم ہو اور جس کا یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جس نے شروع ہی سے ہماری رہنمائی اور کامیابی کے سامان پیدا کر رکھے ہیں ہماری استطاعت کے مطابق اور ہمارے ماحول کے لحاظ سے اور جو وقت کا تقاضا تھا اسے سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ہدایت کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔اگر ہم اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلیں گے،اس کی ہدایتوں پر عمل کریں گے، تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم ناکام ہوں۔غرض جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنی کمزوری اور اپنے گناہ اور اپنی بے مائیگی کا احساس انتہا تک پہنچتے ہوئے بھی ایک انتہائی قادر مطلق خدا پر اس کا ایمان ہوتا ہے۔اس کی صفات کی معرفت اسے حاصل ہوتی ہے۔پھر جب وہ خدا کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتا ہے تو غیر کی قائم کردہ روکیں اسے ڈراتی نہیں۔وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا اذَيْتُمُونَاط میں مومنوں کی یہی صفات بتائی گئی ہیں۔اس آیت میں تیسری بات وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ ہے اس میں یہ بات بتائی گئی