خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 154 of 682

خطبات وقف جدید — Page 154

154 حضرت خلیفہ مسیح الثالث کیونکہ ان وعدوں کے علاوہ وہ دوست جو بعض مجبوریوں کی وجہ سے رہ جاتے ہیں انھوں نے بعد میں وعدے کئے ہونگے اور رقمیں بھجوائی ہونگی ) تو اگر 1892 ء کی آمد ایک ہزار روپیہ سمجھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں 1967ء کی آمد ایک کروڑ سے اوپر نکل گئی۔تحریک جدید کے چندے، صدر انجمن کے چندے، وقف جدید کے چندے، وقف عارضی کا جو خرچ ہوتا ہے اگر چہ وہ ہمارے رجسٹروں میں درج نہیں ہوتا لیکن وہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہوتا ہے جو ایک احمدی کر رہا ہے، اپنے خرچ پر باہر جاتا ہے، کرایہ خرچ کرتا ہے ، وہاں اپنے گھر سے زائد خرچ کرنا پڑتا ہے۔ان سب کو اگر اکٹھا کیا جائے تو یہ رقم ایک کروڑ سے کہیں اوپر نکل جاتی ہے۔میں ایک کروڑ کی رقم اس وقت لے لیتا ہوں تو ایک ہزار سے بڑھ کر ایک کروڑ تک ہماری مالی قربانیاں پہنچ گئیں۔یہ بھی دس ہزار گنار تم بن جاتی ہے۔گویا ایک روپے کے مقابلہ میں دس ہزار روپے کے چندے بنتے ہیں۔یعنی 1892ء میں اگر جماعت نے ایک روپیہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق اپنے رب سے حاصل کی تو اسی برگزیدہ جماعت نے 1967ء میں دس ہزار روپیہ اس ایک روپیہ کے مقابلہ میں خرچ کرنے کی اپنے رب سے توفیق پائی۔یہ تو چندوں کی نسبت ہے۔مگر وعدہ کیا گیا ہے کہ اموال میں برکت دی جائے گی اب جس نسبت سے جماعت کے اموال بڑھے ہیں وہ دس ہزار گنا سے زیادہ ہے۔کیونکہ 1892ء میں قریباً سو فیصدی مخلص تھے اور پوری قربانی دے رہے تھے خدا کی راہ میں لیکن 1967ء میں تعداد چونکہ بڑھ گئی ہے بہت سے ہم میں سے ایسے ہیں جو تربیت کے محتاج ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ آج سے ایک سال یا دو سال یا چار سال یا پانچ سال کے بعد اس ارفع مقام پر پہنچ جائیں گے۔جس پر اللہ تعالیٰ انھیں دیکھنا چاہتا ہے اور ان کے چندوں کی شرح اس شرح کے مطابق ہو جائے گی جو 1892ء میں مخلصین دیا کرتے تھے اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جواموال منقولہ اور غیر منقولہ 1892ء کے احمدیوں کے پاس تھے آج اس کے مقابلہ میں جماعت کے مجموعی اموال منقولہ یا غیر منقولہ کی قیمت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ دس ہزار گنا سے زیادہ برکت ڈال دی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل ہم پر نازل ہو رہے ہیں۔جس نقطہ نگاہ سے بھی ہم دیکھتے ہیں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں اب 75 سالہ عرصہ قوموں اور جماعتوں کی زندگی میں کوئی لمبا عرصہ نہیں ہے اس چھوٹے سے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت پر اپنے ایسے فضل کئے کہ ان کی تعداد اک سے ہزار ہوویں والی دعا سے بھی بڑھ گئی اور ان کے اموال میں جو برکت اللہ تعالیٰ نے ڈالی وہ اک سے دس ہزار کی نسبت سے بڑھ گئی۔اس سے ہم اس صداقت تک پہنچتے ہیں کہ جماعت احمد یہ خدا کی راہ میں جو مالی قربانیاں دیتی ہے وہ ضائع نہیں جاتیں۔اس دنیا میں بھی خدا کی راہ میں دی گئی رقم تمہیں واپس مل جاتی ہے اور صرف اتنی