خطبات وقف جدید — Page 152
152 حضرت خلیفہ المسح الثالث خطبہ جمعہ فرموده 3 نومبر 1967 تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت اسلام کسمپرسی کی حالت میں تھا اور دنیائے اسلام، اسلام کی ضرورت ، اسلام کے نام پر اور غلبہ اسلام کے لئے اپنے اموال قربان کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی تھی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نشاۃ ثانیہ کے سامان پیدا کئے اور آپ کو مخلصین کی ایک جماعت دی گئی جو اپنے نفوس اور اپنے مال کی قربانی خدا کی راہ میں دینے والی تھی۔اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں سے قربانیاں لیتا ہے تو اس دنیا میں بھی اپنے فضلوں کا انہیں وارث بناتا ہے چنانچہ جب اس زمانہ میں نشاۃ ثانیہ کی ابتداء میں مخلصین کی ایک جماعت پیدا ہوئی اور انھوں نے اپنے وقتوں اور اپنی زندگیوں اور اپنے اموال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک وعدہ کیا اور وہ یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ( جماعت کے متعلق ) کہ میں ان کے نفوس اور ان کے اموال میں برکت ڈالوں گا۔آؤ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کس رنگ اور کس شان کے ساتھ پورا ہوا۔میں اس وقت جماعت احمدیہ کی تاریخ کے پچھتر سالوں پر طائرانہ نگاہ ڈالوں گا۔یہ 1967ء ہے۔اس میں سے پچھتر ہم نکال دیں تو 1892ء کا سال بنتا ہے جب ہم 1892ء اور 1967ء کے درمیانہ پچھتر سالہ عرصہ پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں اور مجموعی ترقی نفوس میں اور اموال میں مشاہدہ کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو قدرت کاملہ کا مالک ہے اپنے بندوں پر کس طرح فضل کرتا ہے 1892ء میں نفوس کے لحاظ سے (1892 ء کے صحیح اعداد و شمار تو غالباً ہمارے ریکارڈ میں نہیں ہیں کیونکہ ہماری سینسر ( مردم شماری) کبھی نہیں ہوئی لیکن ایک عام اندازہ کیا جا سکتا ہے۔جلسہ سالانہ (1892ء میں حاضری جلسہ 337 تھی) کی حاضری دیکھ کر وغیرہ وغیرہ کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ یا اگر بہت ہی کھلا اندازہ کیا جائے تو ایک سے تین ہزار کے درمیان تھی عام اندازے کے مطابق 1967ء کی یہ تعداد اس چھوٹی سی تعداد سے بڑھ کر کم و بیش تمہیں لاکھ کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔میرے اندازے کے مطابق تمیں لاکھ سے کچھ اوپر ہے۔اس زیادتی میں دو چیزیں اثر انداز ہوئیں ، ایک پیدائش دوسرا تبلیغ ، ہرد ، ہر دوراہوں سے اللہ تعالیٰ نے