خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 125 of 682

خطبات وقف جدید — Page 125

125 حضرت خلیفت مسیح الثالث میں خاتم النبیین ہوں اور میں سب انبیا سے اعلیٰ ارفع اور افضل ہوں اور میرے مقام تک نہ آج تک کوئی انسان پہنچا ہے اور نہ قیامت تک پہنچ سکتا ہے اور قرآن کریم کی شریعت جو مجھے عطا کی گئی ہے وہ بھی ہمیشہ رہنے والی ہے اور ہر نسل کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی اور ہر نسل کے گند کو دھونے والی اور ہر نسل کو اس کی قوت اور استعداد اور ماحول کے مطابق نور عطا کرنے والی ہے لیکن ہوں میں خدا کا بندہ ، عبودیت کے اس مقام کو جس پر مجھے خدا تعالیٰ نے قائم کیا ہے کبھی نہ بھولنا اور ہمیشہ مجھے خدا کا ایک بندہ ہی سمجھتے رہنا۔اس لئے کلمہ میں اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلهُ إِلَّا الله کے ساتھ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ کے الفاظ رکھ کر ہمیں یہ مقام ہر وقت یاد دلایا اور بلند و پست سے اس آواز کو اونچا کیا تا کہ خالص توحید میں کوئی رخنہ نہ پڑ جائے لیکن ہمارے ان بھائیوں میں سے بعض قرآن کریم کو بھی مانتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ جس مقام توحید پر ہمیں قرآن کریم کھڑا کرنا چاہتا ہے ہم اس پر کھڑے ہیں لیکن ان کی جبینیں قبروں پر بھی جا کر جھکتی ہیں ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی احساس ندامت کے اپنی مجلسوں میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ جب ہم اپنے کسی وفات یافتہ پیر سے دعا کرتے ہیں تو ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہی پیر صاحب اس وقت ہمارے سامنے آجاتے ہیں اور وہ ہماری دعاؤں کو سنتے ہیں اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جو دنیوی اسباب کی طرف جھکتے اور ان مادی اسباب پر اس قدر بھروسہ اور تو کل رکھتے ہیں جتنا صرف خدائے قادر و توانا پر رکھنا چاہئے۔غرض میں نے بتایا ہے کہ ہم نے قرآنِ کریم کا جُوا اپنی گردنوں پر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل نے ہمیں یہ معرفت عطا کی ہے کہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کہنے کے بعد کسی قبر کی پرستش جائز نہیں ،کسی دنیوی طاقت اور وجاہت کی پرستش جائز نہیں، کسی شخصی اقتدار کی پرستش جائز نہیں ، رشوت ، جھوٹ اور حرام خوری پر وہ تو کل جائز نہیں جو تو کل کہ محض خدا پر کرنا چاہئے اور دنیا کی کسی طاقت کو ہم ایسا نہیں سمجھتے کہ وہ خدا کے اذن اور اس کے منشاء کے بغیر ہمیں کوئی بھی عزت یا فائدہ پہنچا سکے پس ہمارے نزدیک لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ کے یہ معنی ہیں جو میں نے ابھی بیان کئے ہیں لیکن بعض کے نزدیک لَا إِلهَ إِلَّا الله کے اعلان کے باوجود قبر کی پرستش بھی جائز ہے، ان لوگوں کے نزدیک لَا إِلهَ إِلَّا الله کے اعلان کے باوجود پیروں کی پرستش بھی جائز ہے، لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کا نعرہ بلند کرنے کے باوجود جھوٹ کی اور رشوت کی اور اپنے مال و اسباب کی پرستش بھی جائز ہے۔ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی سچی اور خالص تو حید کو بھلا چکے ہیں۔اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت دے اور حقیقی تو حید اور معرفت اور عرفان کا حصول ان کے لئے آسان کرے اور محض اپنے فضل سے ہمیں بھی جو احمدیت کی طرف منسوب ہوتے ہیں حقیقی طور پر ایک پکا اور سچا احمدی بنادے کہ محض احمدیت کی