خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 103 of 682

خطبات وقف جدید — Page 103

103 حضرت خلیفہ اسیح الثالث واقف کو دی جائے اور یا پھر اس واقف کے ذریعہ پرائمری تک ایک سکول کھول دیا جائے جہاں وہ احمدی بچوں کو ( اور دوسرے بچوں کو بھی جو وہاں تعلیم حاصل کرنا چاہیں ) قرآن کریم پڑھائے اور دوسری مروجہ تعلیم بھی دے اور یا پھر اسے کمپاؤنڈری یا حکمت کی ابتدائی تعلیم دلائی جائے تا وہ ایسی جگہوں پر جہاں ابتدائی طبی امداد بھی مہیا ہونا مشکل ہے وہاں کے رہنے والوں کو ابتدائی طبی امداد مہیا کرے اور اس طرح پر جو آمد ہو وہ بھی مرکز وصول نہ کرے بلکہ اس ذریعہ سے جو آمد بھی ہو وہ اس واقف کو دے دی جائے۔سکول کی صورت میں اگر اساتذہ ایک سے زائد ہوں تو فیس کے ذریعہ جو آمد ہو وہ سب اساتذہ میں تقسیم کر دی جائے۔بہر حال اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو یہ نظر آرہا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر جماعت میں کم از کم ایک معلم ضرور بٹھا دیا جائے لیکن چونکہ حضور ایک لمبا عرصہ علیل رہے اور اس عرصہ میں جماعت حضور کے خطبات سے محروم رہی اور چونکہ جب تک بار بار جگایا نہ جاتا رہے انسان عادتاً کمزوری کی طرف مائل ہو جاتا ہے اس لئے وقف جدید کی اہمیت اور افادیت آہستہ آہستہ جماعت کے افراد کی نظروں سے اوجھل ہوتی چلی گئی اور اس تحریک کا وہ نتیجہ نہ نکلا جو میرے نزدیک نو سالوں میں نکلنا چاہئے تھا اور اس کی ذمہ داری ساری جماعت پر بحیثیت جماعت عائد ہوتی ہے۔وقف عارضی کے جو وفود مختلف علاقوں میں گئے ہیں ان میں سے کم از کم 60، 70 فیصدی وفود ایسے ہونگے جنھوں نے اپنا وقف عارضی کا زمانہ ختم کرنے کے بعد جو آخری رپورٹ ہمیں بھجوائی اس میں بڑی شدت سے یہ مطالبہ کیا کہ اس جماعت کو کوئی مربی یا معلم ضرور دیا جائے اور یہ بھی لکھا کہ جماعت خود بھی یہ احساس رکھتی ہے کہ جب تک اسے کوئی معلم نہ دیا جائے وہ ان ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا نہیں کر سکتی جو تر بیت کے لحاظ سے اس پر عائد ہوتی ہیں۔لیکن اگر میرے پاس واقفین ہی نہ ہوں تو میں انھیں کہاں سے معلم مہیا کروں۔پھر اگر جماعت اپنی ہمت اور جماعتی ضرورت کے مطابق مالی قربانیاں پیش نہ کرے تو ان معلمین کو گزارہ کہاں سے دیا جائے۔پس پہلی بات تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ واقفین اس تحریک میں شمولیت کے لئے اپنے نام پیش کریں۔میں نے بتایا ہے کہ اس وقت زیر تعلیم واقفین کو شامل کر کے قریباً1 8 واقف ہمارے پاس ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس تحریک کو ابتداء دس کی تعداد سے شروع کیا اگر ہم ہر سال اس میں دس دس کا اضافہ کرتے تب بھی اس وقت ہمارے پاس 90 واقفین ہونے چاہیے تھے لیکن اگر ہم اس تعداد میں ہر سال صرف دس دس کی زیادتی ہی کریں تو چونکہ ہم نے ہزاروں تک پہنچنا ہے اس لئے جب ہم پہلے ہزار تک پہنچیں گے تو ایک صدی گذر چکی ہوگی اور ہم اتنا لمبا عرصہ انتظار نہیں کر سکتے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت اس طرف توجہ دے تو ہر سال پہلے سال کی نسبت دگنی تعداد میں