خطبات وقف جدید — Page 102
102 حضرت خلیفہ مسیح الثالث خطبه جمعه فرموده 7 اکتوبر 1966 ء بیت المبارک ربوہ ) سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں وقف جدید کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جولائی 1957ء میں حضرت مصلح موعود نے اس مبارک الہی تحریک کے متعلق بعض ابتدائی باتیں جماعت کے سامنے رکھی تھیں۔پھر 1957ء ہی میں جلسہ سالانہ کی ایک تقریر میں حضور نے اس کی بعض تفاصیل بیان فرمائیں۔حضور نے یہ تحریک بیان کرنے کے بعد جماعت کے سامنے ابتداء یہ بات رکھی تھی کہ میں فی الحال دس واقفین لینا چاہتا ہوں اور اسی کے مطابق اندازہ خرچ بھی کم و بیش آٹھ دس ہزار روپے کا تھا لیکن آپ کی یہ خواہش تھی کہ یہ الہی تحریک درجہ بدرجہ ترقی کرتی چلی جائے اور جلد ہی ایک وقت ایسا آ جائے جب دس کی بجائے ہزاروں واقفین اس تحریک میں کام کر رہے ہوں۔پھر یہ واقفین صرف پاکستان سے ہی نہ ہوں بلکہ دوسرے ممالک سے بھی ، افریقہ کے ممالک سے بھی ،امریکہ کے ممالک سے بھی اور ان کے علاوہ دوسرے ممالک سے بھی اور پھر جوں جوں واقفین کی تعداد بڑھتی چلی جائے اور خرچ میں اضافہ ہوتا چلا جائے اسی کے مطابق جماعت اپنی مالی قربانیاں بھی تیز سے تیز تر کرتی چلی جائے تا کہ ہم وہ مقصد جو اس الہی تحریک کا ہے وقت قریب میں حاصل کرلیں۔جیسا کہ میں نے ابھی مختصر ابتایا ہے وقف جدید کی تحریک کی ابتدا ء دس واقفین سے ہوئی تھی اور اس وقت جب کہ اس تحریک پر قریباً 9 سال کا عرصہ گذر چکا ہے یہ تعدا دصرف اکاسی واقفین تک پہنچی ہے جن میں سے سترہ کے قریب زیر تعلیم ہیں اور صرف چونسٹھ مختلف جماعتوں میں کام کر رہے ہیں۔حالانکہ حضور کا منشاء یہ تھا کہ دنیا بھر کی جماعتیں ہزاروں کی تعداد میں واقفین ہمیں دیں اور ہم اول تو ہر جماعت میں اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو کم از کم دس دس پندرہ پندرہ میل کے حلقہ میں ایک ایک ایسے واقف ( وقف جدید ) کو مقرر کریں جس نے قربانی کے جذبہ سے خلوص کے ساتھ اور خدمتِ اسلام کی نیت سے اپنی زندگی وقف کی ہو اس واقف کو معمولی گزارہ دیا جائے مثلاً پچاس یا ساٹھ روپے ماہوار اور اس کے باقی اخراجات کے لئے آمد کے بعض اور ذرائع مہیا کئے جائیں مثلاً ایسا انتظام کیا جائے کہ جس جماعت میں اسے مقرر کیا جائے وہ جماعت یا تو دس ایکڑ زمین اس تحریک کے لئے وقف کرے اور اس زمین کی آمد اس