خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 77
خطبات طاہر جلد ۹ 77 خطبه جمعه ۲ فروری ۱۹۹۰ء نظام جماعت کا کام ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ اگر خلیفہ وقت براہ راست یہ کام نہ کرے تو نظام جماعت کی اپنی کوشش اس طرح پھل نہیں لاتی جس طرح جب خلیفہ وقت کی آواز اس میں شامل ہو جائے اس لئے لازماً خلفاء کو ہمیشہ اس کام میں نظام جماعت کی مدد کرتے رہنا ہوگا اور جب بھی کچھ عرصے کیلئے دوسری مصرفیات کی وجہ سے خلیفہ وقت براہ راست تحریک نہ کر سکے تو ہمارا تجربہ ہے کہ مالی لحاظ سے قربانی کا معیار گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسے کئی ملک ہیں جن میں مالی قربانی جتنی ہونی چاہئے تھی، اتنی نہیں تھی۔جب ان کی طرف میں نے ذاتی توجہ دی۔وہاں کی جماعت کو بھی متوجہ کیا۔وہاں دوستوں کو خطوط لکھے ، پیغامات بھجوائے تو اتنی جلدی جلدی تبدیلیاں ہوئی ہیں کہ کل اگر ایک روپیہ آمد تھی تو آج دوروپے ہوگئی۔کل ایک لاکھ تھی تو آج دولاکھ ہوگئی۔یعنی بجائے اس کے کہ فیصد کے لحاظ سے بڑھے، دگنا ، تگنا، چوگنا ہونا شروع ہو گیا۔چنانچہ میں نے ایسے ممالک کا ایک دفعہ جائزہ لیا تو میں حیران رہ گیا کہ چند سال پہلے اگر وہ ایک روپیہ قربانی کر رہے تھے تو آج چار یا پانچ روپے کر رہے ہیں یعنی وہ فیصد میں ماپنے کی بجائے ان کی قربانی کو اس کو کیا کہتے ہیں Factors انگریزی میں کہا جاتا ہے Factors میں ناپا جاتا ہے یعنی کتنے گنا زیادہ بڑھ گیا۔تو جماعت تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس قدرا خلاص رکھتی ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کیلئے ہمیشہ مستعد رہتی ہے کہ اگر اس کو صحیح معنوں میں بر وقت اپیل ہو تو کبھی بھی وہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا کی راہ میں کنجوسی نہیں دکھاتی اور کمزوری نہیں دکھاتی۔اس وقت بعض تحریکیں میرے پیش نظر ہیں جن کے متعلق میں آپ کو یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں۔پہلے تو جس تحریک کا نام رکھا گیا تھا افریقہ اور بھارت فنڈ یا اسی قسم کا کوئی نام تھا۔اس کے متعلق میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان سے بعض دوستوں نے مجھے توجہ دلائی کہ پاکستان کو آپ نے کیوں چھوڑ دیا۔وہ مطلب سمجھے نہیں۔افریقہ اور بھارت فنڈ اس لئے رکھا گیا تھا کہ یہ دوا یسے ممالک ہیں جہاں جماعتی ضرورتیں غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہیں اور وقتی طور پر جماعت کو یہ توفیق نہیں ہے کہ وہ اپنی ضرورتیں خود پوری کر سکے۔ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ پاکستان کو نظر انداز کیا گیا ہے یا کسی اور ملک کو نظر انداز کیا گیا ہے۔یہ ان کیلئے ایک قسم کا Compliment تھا۔ایک قسم کا یہ ان کیلئے تحسین کا اظہار تھا۔باقی ممالک تو اللہ کے فضل سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں لیکن ان