خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 777 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 777

خطبات طاہر جلد ۹ 777 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء کرنے سے مختلف مضمون ہے۔ایک کافر جو خدا تعالیٰ کے احکامات سے کھلم کھلا بغاوت کرتا ہے وہ بھی خدا کی نعمتوں میں حصہ پاتا ہے کیونکہ دنیا میں ہر جگہ اس کی نعمتیں پھیلی پڑی ہیں۔کوئی ایسا انسان نہیں جو خدا کی نعمت سے حصہ نہ پاتا ہو لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اے خدا! ہمیں اُن لوگوں کا رستہ دے جو منعم علیہ ہیں تو نعمتیں نہیں مانگیں بلکہ خدا سے انعام یافتہ لوگ بنے کی دعا مانگی ہے اور یہاں سارے کا فر تمام خدا سے روگردان اور دنیا دار الگ ہو جاتے ہیں اور ان کا رستہ یہاں ختم ہو جاتا ہے۔ایک اور رستہ شروع ہوتا ہے جو قرب الہی کا رستہ ہے۔خدا سے پیار مانگنے کا رستہ ہے اس سے مراتب حاصل کرنے کا رستہ ہے اور اس کے متعلق ہمیں فرمایا کہ یہ رستہ تمہیں تب عطا ہو گا جب تمہاری عبادت واقعہ ان رستوں سے گزرے گی جن رستوں سے انعام پانے والوں کی عبادتیں گزر چکی ہیں۔جہاں تم نعمت کی دعا نہیں مانگ رہے ہو گے بلکہ نعمت پانے والوں جیسا بننے کی دعا مانگ رہے ہو گے اور یہ دعا پہلی دعا سے بہت زیادہ مشکل دعا ہے۔لوگ عموماً سمجھتے ہیں اهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہنا بڑا آسان کام ہے کہ اے خدا ہمیں سیدھے رستے پر چلا۔بس ختم ہو گئی۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ جن لوگوں پر خدا نے انعام کیا تھا وہ تھے کون کون اور اس دنیا میں کن کن مصیبتوں سے گزرے ہوئے ہیں۔حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تمام انعام پانے والوں کے سردار تھے اور اس سے پہلے موسی نے بھی انعام پائے اور عیسی نے بھی پائے اور ابراہیم نے بھی پائے اور نوح نے بھی پائے اور تمام گزشتہ انبیاء جن کی تاریخ قرآن کریم میں محفوظ ہے وہ لوگ ہیں جو منعم علیہم کے گروہ میں داخل ہیں اس رستے پر چلتے رہے جس پر خدا نے انعام پانے والے انسان پیدا کئے تھے۔انعام نہیں رکھے، انعام حاصل کرنے والے انسان پیدا کئے تھے۔اب ان پر آپ نظر ڈالیں تو ہر ایک کی زندگی ایک مصیبت یعنی دنیا کی نظر میں۔ایسے خطر ناک مراحل سے گزرے ہیں ایسے تکلیف دہ حالات کا ساری عمر سامنا رہا ایسی ایسی آزمائشوں میں مبتلا ہوئے ، ایسے ایسے دکھ ان پر لا دے گئے کہ جو عام انسان کی کمر توڑ دیتے ہیں تو کیا آپ یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے خدا ہمیں وہ بنا دے۔اچانک ایک جھٹکا انسان کو لگتا ہے اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ میں کہاں پہنچ گیا۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتے کہتے آرام سے میں ہر چیز مانگتا ہی چلا جارہا تھا اور اچانک ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں ڈر لگتا ہے اور دل میں