خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 776
خطبات طاہر جلد ۹ 776 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء وہ ایک درخواست پیش کرتا ہے۔اگر چہ وہ درخواست ایسے غریبوں کی طرف سے ہے یا ایسے مجرموں کی طرف سے ہے جن سے بادشاہ کو یا تعلق نہیں ہے یا اُن سے ناراض ہے لیکن جب وزیر اعظم و درخواست پیش کرتا ہے تو اس کی حیثیت بالکل بدل جاتی ہے اور قبولیت کا ایک بڑا مرتبہ اس درخواست کو حاصل ہو جاتا ہے ورنہ ہر کس و ناکس کو کہاں یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ بادشاہ کی بعض دفعہ زنجیر بھی کھٹکھٹا سکے کجا یہ کہ اس کی آواز وہاں تک پہنچے۔تو وسیلے کا مضمون بھی اس سے شروع ہو جاتا ہے۔اور اس مضمون کے معا بعد اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا اسی مضمون کو آگے بڑھا رہی ہے اور نئے نئے جہان علم و معرفت کے ہمارے سامنے کھولتی ہے۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مدد مانگیں تو کیا؟ یہاں نَسْتَعِينُ کا عبودیت سے صرف ان معنوں میں تعلق نہیں جو میں بیان کر چکا ہوں بلکہ نَسْتَعِينُ ایک خالی برتن ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کیا مانگا گیا ہے۔نَسْتَعِيْنُ کا ایک تعلق رب سے ہے، رحمان سے ہے۔رحیم سے ہے، مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ سے ہے اور عبادتوں سے ہے اور اس کی روشنی میں ہر چیز انسان مانگ سکتا ہے ایک تسمہ بھی خدا سے مانگتا ہے اور مانگنا چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہی فرمایا ہے کہ خدا سے صرف بڑی چیزیں نہیں چھوٹی چیزیں بھی مانگو اور صرف چھوٹی نہیں بلکہ بڑی چیزیں بھی مانگو تو نَسْتَعِينُ کا ایک بہت بڑا وسیع اور کھلا برتن ہے جس کو آپ نے کچھ نہ کچھ مانگ کر بھرنا ہے لیکن جب آپ اهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے ہیں تو یہاں آپ دنیا وی چیزوں سے ہٹ کر کچھ اور مانگنے لگے ہیں۔اب یہاں نعمتیں نہیں مانگ رہے بلکہ مراتب مانگ رہے ہیں اور ان دو باتوں میں بڑا فرق ہے۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فرمایا۔یہ نہیں فرمایا کہ اے خدا! ہمیں اس رستے کی طرف ہدایت دے جس پر نعمتیں ملتی ہوں۔نعمتیں تو جتنی مانگی تھیں پہلے ہی مانگ چکا ہے یعنی دنیا کی نعمتیں اور دوسری ایسی چیزیں جو نعمت کہلاتی ہیں۔یہاں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ اے خدا ہمیں اس رستے کی ہدایت دے جہاں نعمتیں ملتی ہوں۔فرمایا اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔اس رستے کی طرف ہدایت دے جہاں تیرے پیار حاصل کرنے والے تجھ سے انعام پانے والے چلتے ہیں۔اب یہاں اس دُعا میں نَعْبُدُ اور نَسْتَعِينُ کے دونوں مضامین اکٹھے ہو گئے ہیں۔یہ بتایا گیا ہے کہ روحانی مرتبے اور قرب الہی کے لئے اگر تم دعا مانگو گے تو یہ ایک ایسا مضمون ہے جو عام حالات میں نعمتیں عطا