خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 773 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 773

خطبات طاہر جلد ۹ 773 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء خدا کی خاطر عاجزی اور انکساری سے کرتا ہے اور رب اور رحمان اور رحیم بن کر خدا کے بندوں سے اپنے تعلقات قائم کرتا ہے بڑا ہو کر چھوٹا بنتا ہے اس کی ملوکیت بھی قیامت کے دن کے بعد خدا تعالیٰ کی رحمت کے جلوے کی صورت میں اُسے واپس کی جائے گی اور بہت بڑھا چڑھا کر واپس کی جائے گی۔پس اس دنیا میں ہم کس حد تک مالک ہوں گے اور کس حد تک ملک ہوں گے اس کا تعلق اس دنیا میں خدا کے مالک اور ملک ہونے سے ہے اور اس بات سے ہے کہ ہم نے اس مالک اور ملک سے کس حد تک تعلق جوڑ لیا ہے۔پس نَعْبُدُ کا ایک یہ مضمون ہے، ایک یہ مفہوم ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تو جانتا ہے اور تو دیکھ رہا ہے کہ جو چیز تیری ہمیں پسند آ رہی ہے ہم ویسا بننے کی کوشش کر رہے ہیں اس لئے ہمارے اخلاص میں تو کوئی شک نہیں رہا۔اگر ہم جھوٹے ہوتے تو منہ کی تعریف کرتے اور عملاً ہم اور رُخ اختیار کرتے کسی اور سمت میں روانہ ہو جاتے مگر جس کو ہم اچھا سمجھ رہے ہیں اس کے قدم بقدم اس کے پیچھے چلے آرہے ہیں۔پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ اے خدا ہم پورے خلوص کے ساتھ اور صمیم قلب کے ساتھ اور دل کی گہرائیوں کے ساتھ اور اپنے اعمال کی تصدیق کے ساتھ بار بار یہ عرض کرتے ہیں کہ ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔دوسرے معنوں میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی ہے۔ایک اس کی صفات کی پیروی ہے اس طرح جو دنیا میں ہر جگہ جلوہ گر دکھائی دیتی ہے اور اس کے لئے کسی مذہبی احکام کی ضرورت نہیں۔انسان کا ربوبیت کا تصور، رحمانیت کا تصور ، رحیمیت کا تصور اور مالکیت کا تصور خدا کے تعلق میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے اور اپنے اپنے تصور کے مطابق جس حد تک انسان عبدیت کی راہیں اختیار کرتا ہے وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہنے کا حق رکھتا ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت نازل ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ صرف اپنی صفات کے جلووں سے ظاہر نہیں ہوتا بلکہ اوامر اور نواہی کے جلووں سے ظاہر ہوتا ہے۔احکام دیتا ہے اور بعض چیزوں سے منع کرتا ہے کہیں شجرہ طیبہ ہے اور کہیں شجرہ خبیثہ ہے۔فرماتا ہے کہ شجرہ طیبہ سے جتنے پھل چاہو کھاؤ اور جس طرح چاہو کھاؤ اور حکم دیتا ہے کہ شجر ممنوعہ کی طرف نہ جاؤ۔وہ خبیث شجر ہے تو یہاں انسان روزانہ دوٹوک فیصلے کرنے کا اہل ہو جاتا ہے یہاں اس کی سوچوں اور فکروں کا سوال نہیں رہتا بلکہ کھلم کھلا خدا کی عبودیت یا عدم عبودیت کے مراحل اس کے سامنے آتے ہیں اور ہر مرحلے پر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے عبود بیت