خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 772

خطبات طاہر جلد ۹ 772 خطبہ جمعہ ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء بادشاہ جو ملک گیری کی ہوس کے ساتھ حملے کرتا ہے وہ ایسے حق چھین رہا ہے جو اس کے نہیں ہیں وہ دوسرے بندگان خدا کے حقوق میں دخل اندازی کرتا ہے اور غاصب کی چھینی ہوئی چیزیں اس کو مالک نہیں بنا دیا کرتیں۔ان میں سے وہ کچھ کسی کو دے بھی دے اور کوئی والی مقرر کر دے اور بظاہر ملوکیت کسی کے سپر د کر دے تو جیسا اُس کا قبضہ ناجائز ویسے اس کی عطانا جائز اور بے معنی اور بے حقیقت لیکن جب يَوْمِ الدِّینِ کی شرط ساتھ لگا دیں تو یہ فرق بالکل ہی نمایاں اور اتنا زیادہ واضح ہو جاتا ہے کہ کوئی مشابہت کی شکل بھی باقی نہیں رہتی۔يَوْمِ الدِّینِ کا مطلب ہے جزاء سزا کے دن، آخری دن کا مالک۔ہر چیز اس کی طرف لوٹ جائے گی اور ایک ایسا وقت آئے گا جب کوئی دوسرا شخص ملکیت میں یا ملوکیت میں ایک ذرہ بھر بھی اس کا شریک نہیں رہے گا۔قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَا أَدْرِيكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ثُمَّ مَا أَدْريكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ، يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَبِذٍ لِلَّهِ ن (الانفطار : ۲۰۰۱۹) کہ تمہیں کس طرح سمجھا ئیں کہ يَوْمِ الدِّينِ کیا چیز ہے۔يَوْمِ الدِّینِ اس دور کا، اس زمانے کا نام ہے لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا۔کوئی شخص اپنے لئے یا اپنے کسی عزیز یا تعلق والے کے لئے کسی چیز کا بھی مالک نہیں رہے گا۔وَالْأَمْرُ يَوْمَذٍ لِلهِ اور ملکیت کا امر کلیۂ سو فیصد خدا کی طرف لوٹ چکا ہوگا۔پس یہ دنیا کے بادشاہ اور دنیا کے مالک عارضی طور پر آپ کو بظاہر مالک دکھائی بھی دیں اور خدا کی صفت ملوکیت میں شریک بھی دکھائی دیتے ہوں مگر اس طرح دنیا سے خالی ہاتھ واپس جاتے ہیں اور اس طرح ان کی ملوکیتیں اور مالکیتیں یا ان سے چھینی جاتی ہیں یا یہ خودان سے جدا کئے جاتے ہیں کہ بالآ خرخدا کی مالکیت کا مضمون اپنی پوری شان سے بلا شرکت غیرے اُبھرتا ہے اور ہرامراس کی طرف لوٹ جاتا ہے۔پس خدا کے بندے کے طور پر، اس کی ملوکیت میں حصہ لینا اس مضمون کو بہت وسیع کر دیتا ہے اور جو خدا سے مالکیت مانگتا ہے اور خدا جیسا بن کر مالک بنے کی کوشش کرتا ہے اسے موت اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا کرتی۔وہ ایک عالم بقاء میں رہنا سیکھ لیتا ہے۔یہاں جو کچھ پاتا ہے وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اسے اگلی دنیا میں منتقل بھی کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں جو بادشاہتیں