خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 764 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 764

خطبات طاہر جلد ۹ 764 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء رکھتے ہیں یا نہیں مگر لوگوں کو دکھاتے ضرور ہیں۔وہ یہ کہا کرتے ہیں کہ بس زندگی کا ایک لمحہ کافی ہے وہ لمحہ جو خدا سے ملا دے اور مفہوم یہ ہوتا ہے کہ بس ایک لمحے کی ملاقات کے بعد پھر ہمیشہ کے لئے چھٹی۔حالانکہ ملانے والا لمحہ وہ لمحہ ہوا کرتا ہے جو ہمیشہ کے لئے وابستہ کر دے۔جس کے بعد علیحدگی کا کوئی تصور نہ رہے۔پس ایک نماز کا سوال نہیں ہے۔سوال ایک ایسی نماز کا ہے جو آپ کا نماز کے ساتھ ایسا گہرا اور دائمی رشتہ باندھ دے، ایسا تعلق پیدا کر دے کہ جو پھر کبھی نہ ٹوٹے۔محبت کے متعلق شعراء کہتے ہیں کہ ایک ہی نظر میں ہو جایا کرتی ہے مگر وہ ایک ہی نظر ایسی تو نہیں ہوا کرتی کہ دوبارہ محبوب کی طرف اُٹھنے کی تمنا سے ہی محروم رہے۔ایک نظر سے مراد یہ ہے کہ محبت جب ہو جائے تو پھر ہر نظر اپنے محبوب کو تلاش کرتی ہے اور یہی عرفان الہی اور وصلِ الہی کی حقیقت ہے۔ایک دفعہ جب اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہو جائے جس کا نماز سب سے بڑا ذریعہ ہے تو پھر یہ تعلق دائمی ہو جایا کرتا ہے اور اس تعلق کی سچائی کا نشان ہی اس کا دوام ہے اس لئے میں آپ کو مختلف پہلوؤں سے نماز کے مضمون پر غور کرنے کے طریق بتانے کی کوشش کر رہا ہوں تا کہ ہر شخص اپنے اپنے مزاج کے مطابق وہ طریق اختیار کرے اور عبادت کا صرف فریضہ ادا نہ کرے بلکہ عبادت کی لذت حاصل کرے اور عبادت کے پھل کھائے۔جب ہم صفات باری تعالیٰ کا ذکر سورہ فاتحہ کے الفاظ میں کرتے ہیں تو اس کے بعد إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دعا ہے اس کا ایک مفہوم میں پہلے بیان کر چکا ہوں اب ایک اور امر کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ چار بنیادی صفات بیان ہوئی ہیں: رَبِّ الْعَلَمِينَ، الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔پس جب ہم اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتے ہیں تو اس کا ایک مطلب تو ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔تیرے سامنے سر جھکاتے ہیں اور اپنے وجود کو تیرے حضور پیش کر دیتے ہیں گویا آج کے بعد یہ وجود ہمارا نہیں تیرا ہو گیا اور دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ ہم قدم بقدم تیرے پیچھے چلتے ہیں۔جس طرح ایک غلام آقا کی پیروی کرتا ہے اور اپنی مرضی کا مالک خود نہیں رہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ مالک کی تصویر بن جائے۔جیسا مالک کرتا ہے ویسا ہی وہ کرے تو اس کا نام بھی عبدیت ہے۔پس عبدیت اور عبودیت دو مفہوم عبد کے اندر پائے جاتے ہیں۔جہاں تک دوسرے مفہوم کا تعلق ہے اس کو