خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 763
خطبات طاہر جلد ۹ 763 خطبہ جمعہ ۲۱ دسمبر ۱۹۹۰ء سورۃ فاتحہ میں بیان صفات باری تعالیٰ کا مظہر بننے کی کوشش اور منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کی دعائیں کر ( خطبه جمعه فرموده ۲۱ / دسمبر ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: آج کا خطبہ بھی گزشتہ خطبات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں میں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا چلا آیا ہوں کہ کس طرح نماز کے ساتھ ایک ذاتی تعلق پیدا کیا جائے اور کس طرح نماز کے مطالب میں ڈوب کر نماز سے لذت حاصل کی جائے اور وہ مقصد پالیا جائے جو نماز کی ادائیگی کا حقیقی مقصد ہے یعنی یہ ایک ذریعہ ہے بندے کو خدا سے ملانے کا۔پس جب تک ذریعے کا صحیح استعمال نہ ہو اُس وقت تک ذریعہ اپنے مقصود کو پا نہیں سکتا۔پس خدا تعالیٰ کا وصل، خدا تعالیٰ سے تعلق مقصود بالذات ہے اور نماز سے جتنا تعلق بڑھے گا نماز کا جتنا عرفان بڑھے گا اتنا ہی زیادہ خدا تعالیٰ کی ہستی سے تعلق بڑھے گا اور خدا تعالیٰ کا عرفان بڑھے گا اور نماز کے ذریعہ آپ اپنی زندگی کے، اپنی پیدائش کے مقصد کو پا سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم نماز سے بے سوچے سمجھے گزرتے چلے جائیں تو تمام عمر کی نمازیں بھی اس عارف باللہ کی ایک نماز کے برابر نہیں ہوسکتیں جو ایک نماز سے گزرتا ہے مگر اس میں ڈوب کر، اُس کو اپنا کر، اس کا ہو کر اس میں سے نکلتا ہے اسی لئے بعض دفعہ بعض کم فہم لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ایک ہی نماز ہوا کرتی ہے جو خدا سے ملا دیتی ہے اور صرف ایک ہی نماز کافی ہے۔یہ ایک بالکل غلط اور جاہلانہ تصور ہے۔بعض جو زیادہ عارف بنے کی کوشش کرتے ہیں اور صوفیانہ مزاج