خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 751
خطبات طاہر جلد ۹ 751 خطبه جمعه ۱۴ر دسمبر ۱۹۹۰ء کو خوراک پہنچائی جاتی ہے انسان کو مہیا ہو جاتی ہے۔ایسے Concentrates کی صورت میں یعنی ایسی غذاؤں کے خلاصے کی شکل میں بھی انسان کو مہیا ہو جاتی ہے جس میں مزا کوئی نہیں ہوتا یا ہوتا ہے تو معمولی سا ہوتا ہے اور ضرورت پوری ہو جاتی ہے تو اگر خدا تعالیٰ نے کائنات کو بعض ضرورتوں کی خاطر پیدا کرنا تھا تو محض اس طرح بھی پیدا فرما سکتا تھا کہ ہر چیز کی ضرورت پوری ہو جائے اور خدا نے تخلیق کا گویا حق ادا کر دیا لیکن ہر جگہ آپ کو رحمانیت جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔حواس خمسہ پر آپ غور کر کے دیکھیں یہ تو ہر انسان کے بس میں ہے۔اس کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں۔ہر انسان سے مراد وہ ہے جسے حواس خمسہ عطا ہوں اور اگر حواس خمسہ عطا نہ ہوں تو چار حواس عطا ہوں تو ان کے ذریعے بھی انسان اسی قسم کی معرفت تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔تین ہوں تو اُن تین کے ذریعے انسان اپنی توفیق کے مطابق خدا تک پہنچ سکتا ہے مگر حواس خمسہ ہوں یا چار حواس ہوں یا تین ہوں یا دو یا ایک، زندگی میں کوئی ایسا زندگی کا حصہ آپ کو دکھائی نہیں دے گا جو حواس سے عاری ہو اور اگر حواس سے عاری ہے تو وہ موت ہے۔پس انسان ہی نہیں بلکہ اس کی ادنیٰ حالتیں بھی حواس کے ذریعے خدا تک پہنچتی ہیں اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے اگر وہ محض اس پہلو سے غور کرے کہ میری ہر حس میں اللہ تعالیٰ نے محض ضرورت پوری نہیں فرمائی بلکہ اس سے بہت بڑھ کر رکھا ہے۔ناک کو خوشبو کی یاہو کے احساس کی ضرورت ہے وہ اس لئے ہے کہ بعض زہریلی اور گندی چیزوں سے انسان بچ سکے لیکن اس میں لذت کیوں رکھ دی۔بعض چیزوں میں لذت کیوں رکھ دی گئی ؟ سوال تو یہ ہے۔اس کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا۔بعض جانور اس حد تک وہ قوت رکھتے ہیں جو شامہ کہلاتی ہے یعنی سونگھنے کی قوت کہ وہ اپنی ضرورت کی چیز کو پہچان لیں اور جو چیز اُن کے لئے مضر ہوسکتی ہے اس کو پہچان کر اس سے دور ہٹ سکیں۔یہ ہے بنیادی ضرورت جسے میں محض ضرورت کہتا ہوں لیکن ہر جانور کو خدا تعالیٰ نے کچھ نہ کچھ لذت بھی عطا کر دی ہے۔جو انسان تک پہنچتے پہنچتے درجہ کمال تک پہنچ جاتی ہے۔نظر کی محض ضرورت یہ ہے کہ آپ رستہ دیکھ سکیں چیزوں کو نہ صرف دیکھ سکیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو اس کے فاصلے دیکھ سکیں۔چیزوں کو اس حد تک پہچان سکیں کہ کون سی آپ کے لئے مفید ہیں اور کون سی مضر ہیں۔کہاں ٹھوکر ہے کہاں صاف رستہ ہے۔غرضیکہ محض ضرورت کی زندگی کی بہت سی روز مرہ کی ایسی حالتیں ہیں جنہیں نظر پورا کرتی ہے لیکن نظر کے ساتھ لذت رکھ دی اور اس