خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 750
خطبات طاہر جلد ۹ 750 خطبه جمعه ۱۴ رو نمبر ۱۹۹۰ء ساتھ اُن کا علم بڑھتا ہے اور اگر اُن کے اندر بصیرت ہوتو وہ اس علم کے بڑھنے کے ساتھ خدا تعالیٰ کی یاد میں بھی ترقی کرنے لگتے ہیں لیکن اگر دیکھنے کی طاقت ہی کچھ نہ ہو تو وہ علم الگ پڑا رہتا ہے اور خدا کا تصور الگ پڑا رہتا ہے اور ان دونوں کے درمیان رشتہ قائم نہیں ہوتا۔مگر سوال یہ ہے کہ ساری دنیا تو اس قسم کے علم تک رسائی نہیں رکھتی اور وہ دنیا جو پہلے گزر چکی ہے جن میں ایسے زمانے شامل تھے جن میں خدا کے عظیم انبیاء گزرے جو خدا کو سب سے زیادہ یاد کرنے والے تھے اور وہ زمانہ بھی شامل ہے جس میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے جن سے زیادہ ذکر کرنے والا نہ پہلے پیدا ہوا نہ آئندہ کبھی ہو سکتا ہے۔تو اس زمانہ میں David Attenborough کا تو وجود ہی کوئی نہیں تھا، اس سائنس کا وجود نہیں تھا جس نے David Attenborough پیدا کئے ، ان ایجادات کا کوئی تصور نہیں تھا جن کے ذریعے سے انسان کی خدا تعالیٰ کی ان صنعتوں تک رسائی ہوئی جن میں اس نے حیرت انگیز تخلیق کے کرشمے دیکھے۔پس نماز تو ہر زمانے کے لئے ہے اور ذکر الہی ان ظاہری علوم کا محتاج نہیں مگر ذکر الہی اس اندرونی توجہ کا ضرور محتاج ہے جس کے نتیجے میں ہر جگہ انسان کو خدا ملنا شروع ہو جاتا ہے اور نظر میں گہرائی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے اور اپنے گرد و پیش جہاں دیکھتا ہے وہ خدا کے وجود کو وہاں جلوہ گر دیکھتا ہے اور جتنی بصیرت تیز ہو اور جتنی محبت بڑھے اتنا ہی خدا کا وہ جلوہ زیادہ خوبصورت ، دلکش اور دلر با دکھائی دینے لگتا ہے۔پس عام دنیا کے دستور کے لحاظ سے بھی نماز میں اور خصوصاً سورہ فاتحہ میں ہر انسان اپنی اپنی توفیق کے مطابق رنگ بھر سکتا ہے۔حواسِ خمسہ کی میں نے بات کی ہے اب یہ بھی ایک بڑی دلچسپ غور طلب بات ہے کہ سورہ فاتحہ میں رَبِّ الْعَلَمِینَ کے بعد الرَّحْمٰن کا ذکر فرمایا گیا اور الرَّحْمنِ پر غور کرنے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ ایسی ذات ہے ( بے شمار اور بھی معانی ہیں لیکن ایک بڑا نمایاں معنی یہ ہے کہ ) جس نے محض ضرورت سے بہت بڑھ کر دیا۔محض ضرورت تو یہ ہے مثلا کہ ایک انسان کی بھوک مٹ جائے اور اس کی غذا اس لحاظ سے مکمل ہو کہ اس کو زندگی کے قیام کے لئے اور زندگی کی نشو ونما کے لئے جن کیمیاوی اجزاء کی ضرورت ہے وہ اسے متناسب شکل میں مہیا ہو جائیں۔یہ زندگی کی محض ضرورت ہے اور یہ ضرورت بعض دفعہ Drips کی صورت میں بھی جس کے ذریعے مریضوں