خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 743
خطبات طاہر جلد ۹ 743 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء دو انتہاؤں کوکس طرح چھوٹی سی آیات میں بیان فرما دیا۔ایک طرف انسان کی یہ بدنصیبی اس کو دکھائی کہ ہر چیز تسبیح کر رہی ہے۔تم سے نیچے جتنی مخلوقات ہیں وہ سب تسبیح اور حمد میں مصروف ہیں مگر تمہیں دیکھنے کے باوجود اُن کی تسبیح سنائی نہیں دیتی اور سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کس طرح کر رہے ہیں اور خود تم اپنی ذات میں بھی تسبیح اور حمد سے ایسے غافل ہو گئے ہو کہ جب خدا تعالیٰ کی حمد بیان کرنے والا ایسا آیا جو سب دنیا میں حمد بیان کرنے والوں سے آگے بڑھ گیا۔جب خدا تعالیٰ کی تسبیح کرنے والا ایسا وجود ظاہر ہوا کہ اُس جیسا کبھی نہ پہلے پیدا ہوا تھا نہ آئندہ پیدا ہوسکتا ہے یعنی محمد مصطفیٰ۔جس کے متعلق فرمایا کہ ذِكْرًار سُولًا (الطلاق: ۱۲۱۱) وہ مجسم ذکر الہی ہے۔تم اُس کی باتوں سے کھلا کھلا ذکر الہی سنتے ہو اور تب بھی تمہارے اور اُس کے درمیان پردے پڑے ہوئے ہیں۔پس اس صورت میں کائنات میں سب سے زیادہ اندھا جانورانسان بن جاتا ہے نہ خود تسبیح اور حمد کا سلیقہ اور نہ دوسروں کو دیکھ کر وہ کچھ سیکھتا ہے اور اُن کی سمجھ بھی نہیں آتی۔ساری کائنات بھری ہوئی ہے خدا کی حمد اور تسبیح کرنے والوں سے۔اُن کی آواز میں سُنائی دے رہی ہیں، اُن کی روشنیاں جل رہی ہیں اور عجیب مناظر ہیں جو تمام دنیا میں کائنات میں ہر طرف پھیلے پڑے ہیں۔ہواؤں میں بھی ہیں، خشکی کے اوپر بھی ، زمین پر چلنے والوں میں بھی اور سمندر کی گہرائیوں تک بھی ہیں اور دن رات وہ جلوہ افروزیاں ہو رہی ہیں۔خدا تعالیٰ کے جلوے ظاہر ہورہے ہیں مختلف شکلوں میں مگر دیکھنے والے کو بھی دکھائی نہیں دے رہا، سنے والے کو بھی سنائی نہیں دے رہا اور پھر ایسے اندھے اور غافل ہو جاتے ہیں جب حضرت اقدس محمد مصطفی عملے ان پر ذکر الہی پڑھتے ہیں ان کے اور اُن کے درمیان ایک پردہ آ جاتا ہے اور کچھ سمجھ نہیں آتا۔پس اگر نماز میں لذت پیدا کرنی ہے تو نماز سے باہر ذکر الہی کا سلیقہ سیکھیں۔وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ (العنکبوت: ۴۲) کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ نماز میں تو تم تھوڑی دیر ٹھہرتے ہولیکن خدا کے ذکر کا مضمون بہت وسیع تر ہے ہر طرف پھیلا ہوا ہے اور ذکر کو سمجھو تو پھر جب تم نمازوں کی طرف لوٹو گے تو ہر دفعہ آنے میں تمہیں ایک نئے خدا سے شناسائی ہوگی۔خدا تو وہی ہو گا لیکن اُس کے نئے جلوے دیکھ کر تم آرہے ہو۔اس مضمون کو اگر اُس مضمون کے ساتھ ملالیں جو دل کے اندر اپنے وجود پر اپنے حالات پر غور کرنے کے ذریعے خدا دکھائی دیتا ہے تو اس کو کہتے ہیں اندر اور باہر