خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 733
خطبات طاہر جلد ۹ 733 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء بات معلوم کی کہ نرجب چمکنے کے ذریعے مادہ کو پیغام بھیجتا ہے اگر مادہ اُس کا جواب دینا چاہے اور اپنی طرف بلانا چاہے تو یونہی اتفاقا ایک طبعی رد عمل کے طور پر وہ نہیں چمکے گی بلکہ بعینہ دوسیکنڈ انتظار کے بعد آدھے سیکنڈ کے لئے چمکے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ ہاں میں تیار ہوں تم سے تعلق قائم کرنے کے لئے میری طرف آ جاؤ۔چنانچہ اُس نے روشنی سے یعنی ٹارچ کے ذریعے یہ کر کے دکھایا۔جگنو چمکے تو اُس کے پورے دو سیکنڈ کے بعد اُس نے ہاتھ پر تھوڑی سی ٹارچ روشن کی اور آدھا سیکنڈ صرف روشن کی اور اُڑتا ہوا ایک جگنو وہاں پہنچ گیا لیکن یہ جو اتنی سی بات اُس نے حاصل کی ہے اس کے لئے سالہا سال کی اُس کو محنت کرنا پڑی ہوگی، غور کرنا پڑا ہوگا اور ایک چھوٹا سا علم اُس کو حاصل ہو گیا جسے اُس نے سائنسی طور پر ثابت بھی کر دیا۔مجھے یاد ہے جب میں ایک دفعہ بنگلہ دیش گیا تو خیال تھا سند ربن میں نئی نئی جماعتیں قائم ہو رہی تھیں اس لئے سندر بن بھی جانا چاہئے چنانچہ یہی نظارہ پہلی مرتبہ میں نے سندر بن میں دیکھا تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ ملائیشیا میں بھی ایسا ہوتا ہوگا اور آج تک مجھے یاد ہے اُس کی کیفیت۔یا تو ہے لیکن نا قابل بیان ہے۔جب آپ خود یہ نظارہ دیکھیں کہ دور تک میل ہا میل تک سارے درخت جگنوؤں سے بھرے ہوئے ہیں سارے بیک وقت بجھتے بیک وقت جلتے ہیں اور کوئی انسانی روشنیوں کا کھیل اس سے زیادہ دل کو متاثر نہیں کر سکتا لیکن ملائیشیا کا مجھے تو علم نہیں مگر بنگلہ دیش میں سندر بن میں ایک مزید بات اور بھی تھی کہ (وہ اُن کا نام مجھے یاد نہیں جھینگر قسم کی چیزیں ہیں جو درختوں کے اوپر آوازیں نکالتے ہیں خاص قسم کی کرچ کرچ کی سی آواز میں بھی نکلا کرتی ہیں ) لیکن جو بنگلہ دیش میں آوازیں تھیں وہ گھنٹیوں سے مشابہ تھیں اور بعد میں مجھے علم ہوا کہ ایک ایسا Insect حشرارت الارض میں سے ایک قسم ایسی ہے جس کا نام ہی انہوں نے گھنٹی والا رکھا ہوا ہے۔تو یوں لگتا تھا گھنٹی بجی ہے تو وہ روشنیاں ایک دفعہ جلتی اور یک دفعہ بجھتی تھیں اور ادھر یہ گھنٹیاں یک دفعہ چلتی اور یک دفعہ ختم ہو جاتی تھیں اور ان کی ٹن ٹن ٹن ٹن کی آواز اس رات کے وقت حیرت انگیز ایک کیفیت ، ایک حیرت انگیز اثر پیدا کرنے والا تجربہ تھا جس پر میں غور کرتا رہا اور حیران تھا کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے مختلف جگہوں میں کیا کیا حسن پھیلا رکھا ہے اور اپنے کیسے کیسے جلوے دکھاتا ہے اور اُس کو کوئی پرواہ نہیں کہ باہر سے دنیا آتی ہے دیکھتی ہے نہیں دیکھتی ، ان لوگوں کو بھی کوئی سمجھ آتی ہے کہ نہیں آتی مگر وہ سارے جگنو