خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 732
خطبات طاہر جلد ۹ 732 خطبہ جمعہ ۷ دسمبر ۱۹۹۰ء ان سے کھیلتے ہیں ، دلچسپی لیتے ہیں یہ کہ اتفاقاً یہاں اس کے اندر کوئی روشنی کا مادہ پیدا ہو گیا ہے جو خود بخود جلتا بھتا رہتا ہے اور وہی اُس کا مقصد ہے۔لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ جب وہ غور کرتے ہیں تو بے اختیار اُن کے دل سے یہ بات نکلتی ہے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا اے خدا ! تو نے یہ چیزیں باطل اور بے مقصد پیدا نہیں فرما ئیں۔تو یہی بات کہ باطل نہیں پیدا فرمائی “ یہاں تک تو دنیا کے سائنسدان پہنچنے لگے ہیں۔خدا کرے اُس سے اگلا قدم بھی وہ اُٹھا لیں فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تک بھی پہنچ جائیں اور ذکر الہی میں بھی مشغول ہو جائیں۔ہوسکتا ہے کچھ ہوں بھی لیکن اکثریت بدنصیبی سے اس سے محروم ہے۔تو روشنی سے جو پیغام رسانی کی جاتی ہے اُس کے متعلق اُس نے مختلف ملکوں میں مختلف موسموں میں جگنوؤں کا پیچھا کیا اور اُن کی فلمیں بنائیں اور پھر اُن کے پیغامات پر غور کر کے اُن کو سمجھا۔اس حد تک اُن کو سمجھا کہ سائنسی لحاظ سے پھر وہ ثابت بھی کرسکتا ہے کہ جو نتیجہ میں نکال رہا ہوں یہ درست ہے۔جہاں تک پیغامات کا تعلق ہے ان سائنسدانوں کی نظر صرف یہاں تک پہنچتی ہے کہ نر کا پیغام مادہ کو کس طرح پہنچتا ہے، مادہ کا پیغام نرکو کس طرح پہنچتا ہے لیکن David Attenbrough آ گے بھی ایک قدم بڑھا چکا ہے اور یہ باتیں کہنے کے بعد جو عام طور پر سائنسدان کہتے ہیں وہ کچھ مثالیں ایسی بھی پیش کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اتنی سی بات نہیں ہے اور بھی بہت سی باتیں ہیں، اور بھی بہت کچھ یہ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں اور با قاعدہ ان کی ایک روشنیوں کی زبان ہے۔چنانچہ جگنوؤں کی پیروی میں وہ ملائشیا بھی گیا اور وہاں اُس نے ایسے ایسے عظیم مناظر دیکھے کہ جن کو دیکھ کر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہو جاتا ہے۔ایک بہت بڑے درخت پر لکھوکھہا جگنو بھی ہو سکتے ہیں۔اتنے کہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ پتے پتے پر ایک جگنو ہے اور وہ سارے کے سارے ایک ہم آہنگی کے ساتھ جس طرح تال پر سر چلتے ہیں اُس طرح ایک نغمگی کے ساتھ اکٹھے بجھتے ہیں اور اکٹھے جلتے ہیں اور اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں جیسے ایک دل ڈھرک رہا ہو، جیسے نبض چلتی ہو اُس طرح وہ سارے ایک دم جلتے ہیں اور ایک دم بجھتے ہیں۔وہ کہتا ہے کہ عجیب بات ہے کہ ہم نے امریکہ میں بھی دیکھے وہاں اکیلے اکیلے جگنو چمکتے بجھتے دیکھے لیکن یہ عجیب کا ئنات ہے خدا کی کہ ان سب نے ایک دوسرے سے ہم آہنگی سیکھ لی ہے اور پھر اس نے مزید جب اُن پر غور کیا تو اس نے یہ