خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 722 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 722

خطبات طاہر جلد ۹ 722 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء پس اُمّ الکتاب کا صرف یہ مطلب نہیں کہ سورۃ فاتحہ میں مضامین ہیں۔ان میں ہر لفظ جو بیان ہوا ہے وہ ماں کا درجہ رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ کی چار صفات ام الصفات ہیں۔عبادت کا مضمون خدا سے تعلق کے لحاظ سے ہر مضمون کی ماں ہے۔یہ وہ رستہ ہے جس کے ذریعے خدا سے تعلق قائم ہوتا ہے اور اس کے بغیر کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔تو زندگی کے کسی دائرے میں بھی خدا سے تعلق ہو خواہ بظاہر آپ نماز پڑھ رہے ہوں یا نہ پڑھ رہے ہوں ، وہ حقیقت میں عبادت ہی ہے جس کے ذریعے تعلق قائم ہو سکتا ہے اور اس مضمون کو حضرت اقدس محمد علی نے ہمارے سامنے اس طرح کھول کر بیان فرما دیا جب فرمایا کہ اگر تم بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتے وقت یہ سوچتے ہوئے لقمہ ڈالو کہ خدا راضی ہو گا اور خدا چاہتا ہے کہ تم اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو اور اس سے حسن سلوک کرو تو تمھارا یہ فعل بھی عبادت بن جائے گا۔تو اب دیکھ لیں اس چھوٹی سی مثال میں ہر انسانی زندگی کے ہر عمل کو عبادت میں تبدیل کرنے کا کتنا عظیم الشان نسخہ فرما دیا گیا ہے اور تعلق صرف نماز کے ذریعے قائم نہیں ہوتا بلکہ ہر آن انسان کے گردو پیش ہونے والے واقعات اور اس کے تجارب کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کا ایک تعلق ہے۔انسان اپنے گردو پیش میں ہونے والے واقعات سے متاثر ہو کر جو بھی ردعمل دکھاتا ہے وہ رد عمل عبادت کا رنگ بھی اختیار کر سکتا ہے اور عبادت سے دور بھی ہٹ سکتا ہے۔پس إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں تعلق باللہ کی ماں بیان ہوگئی ہے۔یعنی اس ایک لفظ کے اندر اس ایک عہد میں کہ اے خدا تیرے سوا ہم کسی کی عبادت نہیں کریں گے، تیری کریں گے اور صرف تیری کریں گے، تیری ہی عبادت کرتے ہیں کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔غیر کی عبادت کا انکار کرتے ہیں۔اس اقرار میں ہر تعلق باللہ کی جان ہے اور اس کو آپ جتنا وسیع کرتے چلے جائیں گے اتنا ہی زیادہ آپ اس کے مطالب سے استفادہ کرتے چلے جائیں گے۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بھی بظاہر آپ غیروں سے سوال کرتے ہیں۔بچہ ماں سے سوال کرتا ہے، باپ سے چیز مانگ لیتا ہے، دوست دوست سے چیز مانگ لیتا ہے اس میں اور اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں فرق کیا ہے؟ اس فرق میں جب آپ غور کریں گے تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ دوست کی حیثیت ، ماں کی حیثیت ، باپ کی حیثیت ، بچے کی حیثیت جب تک یہ حیثیتیں اصل مقام پر قائم نہ ہوں اور خدا کے مقابل پر ان کے مقام انسان کے پیش نظر نہ ہوں، اگر ان کے ضائع ہونے کے باوجود خدا باقی رہتا ہو اور ان کا حسن اور ان کی خوبیاں