خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 721 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 721

خطبات طاہر جلد ۹ 721 خطبه جمعه ۳۰ / نومبر ۱۹۹۰ء پس عبادات میں بھی ایک سائنس ہے۔دعاؤں کی بھی ایک سائنس ہے۔جو دعائیں مستجاب ہونے کا حق رکھتی ہیں وہی مستجاب ہوتی ہیں۔بعض دفعہ وہ آنسووں سے خالی بھی ، ابھی دعانہ بھی بنی ہوتب بھی وہ مقبول ہو جاتی ہے اور اس کا راز اسی میں ہے کہ سورہ فاتحہ کو آپ سمجھیں اور حمد کے مضمون کو خدا تعالیٰ کی چار صفات پر اطلاق کرتے چلے جائیں پھر جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہیں تو اپنے نفس کا جائزہ لیں اور غور کریں کہ کہاں کہاں آپ کی عبادت واقعۂ حمد سے لبریز ہے اور کہاں کہاں خالی ہے۔اپنی روز مرہ کی زندگی کے حالات پر نظر ڈالیں تو اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا مضمون ہی ایک ایسا مضمون ہے جو آپ کے قدم روک لے گا اور آپ کبھی بھی اس مضمون سے نئے نکات حاصل کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔سورۃ فاتحہ کا ایک مضمون بھی ایسا نہیں جسے انسان ساری زندگی کے غور وخوض کے بعد ختم کر سکے۔تو بتائیے کون سی اکتاہٹ کا مقام ہے، اکتاہٹ کیسے پیدا ہوسکتی ہے۔اکتاہٹ تو ہوتی ہے جب ایک چیز بار بار اسی شکل میں سامنے آئے۔خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ تعارف ملتا کہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِ بنِ (الرحمن : ۳۱،۳۰) خدا کی ہستی ایسی ہے کہ ہر لحظہ اس کی شان بدل رہی ہے، اس سے انسان کیسے بور ہوسکتا ہے۔اگر بدلتی ہوئی شان دیکھنے کی استطاعت کسی میں پیدا ہو جائے ، اسے ایسی آنکھیں نصیب ہو جائیں جو بدلتی ہوئی شان کو دیکھ سکیں تو اس کے لئے تو خدا تعالیٰ کبھی پرانا ہو ہی نہیں سکتا اور سورۃ فاتحہ کے شیشوں سے آپ خدا کی بدلی ہوئی شان دیکھ سکتے ہیں۔یہ سورۃ فاتحہ وہ آلہ ہے، جیسے دور بین یا خورد بین یا اس قسم کے کیمرے استعمال کئے جاتے ہیں۔بعض چیزوں کو خاص نہج سے قریب سے دیکھنے کے لئے اسی طرح سورۃ فاتحہ کو بھی ایک صاحب بصیرت انسان خدا تعالیٰ کی صفات دیکھنے اور اس کی نئی نئی شانیں دیکھنے میں استعمال کر سکتا ہے اور اگر چہ صرف چار صفات کا ذکر ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ان چار صفات میں خدا تعالیٰ کی تمام صفات موجود ہیں اور اب دیکھیں کہ اس چھوٹی سی سورۃ کوام الکتاب کہا گیا ہے اور قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کی تمام صفات کی بحث ہے۔پس کیسے اسے ام الکتاب کہہ سکتے ہیں اگر اس میں خدا تعالیٰ کی صفات میں سے صرف چار بیان ہوں۔سوائے اس کے کہ وہ چاروں صفات اُمّم الصفات ہوں اور یہی امر واقعہ ہے۔ان چار صفات کے ایک دوسرے کے عمل کے ساتھ اور ان کی جلوہ گری میں آپ کو خدا تعالیٰ کی تمام صفات دکھائی دے سکتی ہیں۔