خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 666
خطبات طاہر جلد ۹ 666 خطبه جمعه ۹ رنومبر ۱۹۹۰ء پس یہ ہے خلاصہ تاریخ اور جغرافیہ کے تعلقات کا۔اب جب ہم کو یت پر عراق کے قبضے کی طرف واپس آتے ہیں تو اس ساری صورت حال کا یہ تجزیہ میرے سامنے آیا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم ملک مسلمان ملک کی سرزمین پر قبضہ کر لے اور جغرافیہ تبدیل کر دے تو دنیا کے امن کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔اگر کوئی مغربی طاقت یا سب طاقتیں مل کر ایک وسیع براعظم کے جغرافیے کو بھی تبدیل کر دیں اور تہس نہس کر دیں اور ایسی ظالمانہ تقسیم کریں کہ ہمیشہ کے لئے وہ ایک آتش فشاں مادے کی طرح پھٹنے کے لئے تیار بر اعظم بن جائے تو اس سے امنِ عالم کو کوئی خطرہ در پیش نہیں ہو گا لیکن اگر ایک مسلمان ملک کسی مسلمان ملک کی زمین پر قبضہ کرے تو اس سے سارے عالم کے امن کو خطرہ ہوگا اور اس عالمی خطرے کو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔یہ آخری منطق ہے جو اس سارے تجزیے سے اُبھر کر ہمارے سامنے آتی ہے۔اس کے با وجود کہ یہ ساری باتیں معروف اور معلوم ہیں، یہ کوئی ایسی تاریخ نہیں ہے جس کو میں نے کھوج کر کہیں سے نکال کر پڑھا ہے اور جس سے مسلمان دانشور واقف نہیں یا مسلمان ریاستوں کے سر براہ واقف نہیں، سب کچھ ان کی نظر کے سامنے ہے اور دیکھتے ہوئے نہیں دیکھ رہے کہ اس وقت جو کچھ مشرق وسطی میں ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے اس کا تمام تر نقصان اسلام کو اور اہل اسلام کو پہنچے گا اور تمام تر فائدہ غیر مسلم ریاستوں کو اور غیر مسلم مذاہب اور طاقتوں کو میسر آئے گا اس جنگ کی جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا جو بھی قیمت چکانی پڑے گی وہ تمام تر مسلمان ممالک چکائیں گے اور یہ جو عظیم الشان فوجوں کی حرکت ایک براعظم سے دوسرے براعظم کی طرف ہو رہی ہے یہ غیر معمولی اخراجات کو چاہتی ہے اس کے لئے دولت کے پہاڑ درکار ہیں لیکن یہ وہی دولت کے پہاڑ ہیں جو سعودی عرب نے اور شیخڈم نے ان ہی ملکوں میں بنارکھے تھے اور وہی اب قانونی طور پر ان کے سپرد کر دئیے جائیں گے کہ یہ تمہارے ہو گئے۔ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا اور نتیجہ ایک ابھرتے ہوئے اسلامی ملک کو ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کر دینا اور مسلمانوں کے دل میں اس خیال کا پیدا ہونا بھی جرم قرار دیا جانا کہ وہ اپنی عزت نفس کے لئے کسی قسم کی کوئی آزاد کار روائی کر سکتے ہیں۔عراق کو بھی ہم نے بہت سمجھانے کی کوشش کی اور جس طرح بھی ہوا ان کو پیغام بھجوائے گئے کہ آپ خدا کے لئے خود اپنے مفاد کی خاطر اور اس اسلامی مفاد کی خاطر جو آپ کے پیش نظر ہے