خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 657

خطبات طاہر جلد ۹ 657 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۹۰ء اور چین اور مشرقی یورپ میں جماعت کی طرف سے با قاعدہ یا اپنے طور پر طوعی کام کرنے والے مبلغین پہنچ چکے تھے اور اپنی قربانیوں کی ایک بہت ہی درد ناک اور عظیم داستان یہ لوگ وہاں چھوڑ آئے ہیں۔ان قربانیوں کو وہاں سے لینا ہے اور آگے بڑھانا ہے۔اس سلسلے میں میں وقف کی ایک تحریک کر چکا ہوں جس میں بہت سے مخلصین نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ عارضی وقف کرنے والے جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے انتظار کر رہے ہوں گے کہ وہ درخواستیں کہاں چلی گئیں وہ یاد رکھیں کہ ان پر بہت توجہ کے ساتھ اور تفصیل کے ساتھ غور ہورہا ہے اور ضروری معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں اور ضروری انتظامات کئے جارہے ہیں۔نئی جگہوں پر اس زمانے میں اس طرح بھجوا دینا کہ کوئی شخص سراٹھا کر جدھر رخ بنے اس طرف چل پڑے یہ کوئی مناسب طریق نہیں ہے۔ان تمام علاقوں کے متعلق چھان بین ہونی ضروری ہے ان کے جغرافیائی حالات ان کے تاریخی حالات ان کے موجودہ تمدنی اخلاقی حالات وغیرہ وغیرہ اور رہن سہن کے طریق، اخراجات کتنے اٹھیں گے اور کیا کیا وقتیں ہیں جو در پیش ہو سکتی ہیں۔زبان کے مسائل کیسے حل ہوں گے بڑ یچر کیا لے کر جائیں گے، اجازت نامے کیسے ملیں گے غرضیکہ اس قسم کی بہت سی باتیں ہیں جن پر باقاعدہ بڑی توجہ اور محنت کے ساتھ تحقیق ہورہی ہے اور کوائف مرتب ہورہے ہیں اور موسموں کو بھی دیکھنا پڑے گا کون سے موسم وہاں موزوں رہیں گے۔جب بھی یہ تیاری ہو جائے گی۔تو ہم انشاء اللہ تعالیٰ واقفین کو باقاعدہ ایک تفصیلی ہدایت نامہ بھجوائیں گے اور ان کی پوری راہنمائی کریں گے کہ آپ اگر فلاں علاقے میں جانا چاہتے ہیں تو اس طرح جائیں۔یہ یہ ضروریات ہیں ، یہ یہ امور پیش نظر رہنے چاہئیں اور جماعت اس معاملے میں کیا مدد کر سکے گی۔پھر بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں کے لئے ابھی مناسب تعداد میں لٹریچر موجود نہیں ہے اور لٹریچر میں سے بعض ایسی کتابیں اور رسالے ہیں جو چھپ رہے ہیں، بعض ابھی تیار ہور ہے ہیں۔نئی زبانیں ہیں جن پر ہمیں کوئی اختیار نہیں۔ابھی کوئی احمدی ان زبانوں کا ماہر نہیں بنا تو ماہرین بھی ڈھونڈ نے پڑتے ہیں پھر صحیح تراجم کے لئے جو احتیاطیں ضروری ہیں وہ بھی ضروری ہیں اور وقت طلب بھی ہیں۔تو انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ دو تین ماہ کے اندراندر میں امید رکھتا ہوں ہمارے واقفین کو رسالے کے رسالے ان علاقوں میں جانا شروع ہو جائیں گے اور ایک دو پہلے جا بھی چکے