خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 654 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 654

خطبات طاہر جلد ۹ 654 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۹۰ء اور جو آج درخت ہیں یہ عظیم الشان جنگلوں اور جمنوں میں تبدیل ہونے والے ہیں اس لئے اپنے پہلوں کو اگر آپ یا درکھیں اور ان کے لئے دعائیں کیا کریں تو اللہ تعالیٰ آئندہ نسلاً بعد نسل آپ کے ذکر کو زندہ رکھے گا اور آپ کے لئے دعائیں کرنے والے پیدا ہوتے رہیں گے۔پس وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جن کے پہلے بھی دعائیں ہوں جن کے بعد میں بھی دعائیں ہوں اور وہ خود بھی دعاؤں کے سائے تلے پرورش پارہے ہوں پس حقیقت میں دعا ہی ہے جس کے ذریعہ ہم نے تمام دنیا میں اسلام کو از سرنو غالب کرنا ہے اور ان دعاؤں کے نتیجے میں اور ان کے سائے تلے ہم نے قربانیوں میں آگے بڑھنا ہے۔جہاں تک اعداد و شمار کا تعلق ہے مختصر آ میں آپ کو بتا تا ہوں کہ حسب سابق خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستان آج بھی صف اول میں ہے اور پاکستان کی تمام جماعتوں کے اگر چہ تفصیلی اعدادو شمارا بھی مجھے نہیں پہنچے لیکن اب تک کے جو اعداد و شمار ہیں ان کی رو سے کراچی کی جماعت اپنی تحریک جدید کی ادائیگیوں میں اول ہے۔دس لاکھ کا ان کا دعدہ تھا اور حالات کے بے حد خراب ہونے کے باوجود ، افراتفری ظلم، لوٹ مار، بے چینی ، بد اطمینانی ، تجارتوں کی ناکامی ، ہر قسم کے خطرات کے باوجود بجائے اس کے کہ دس لاکھ سے کم ادائیگی کرتے ، کراچی نے چودہ لاکھ ادا ئیگی کی ہے۔اللہ تعالیٰ یہ ان کے لئے مبارک فرمائے اور ان کا قدم ہمیشہ ترقی کی طرف رواں رہے۔دنیا بھر میں پاکستان بہر حال اول ہے اور جرمنی نے جو یہ عزاز حاصل کیا تھا کہ وہ دوسرے نمبر پر آئے وہ نہ صرف اس اعزاز کو خدا کے فضل سے قائم رکھے ہوئے ہے بلکہ آگے بڑھ رہا ہے اور دوسری جماعتوں کو جو پہلے اس کے شانہ بشانہ تھیں اور پیچھے چھوڑتا چلا جا رہا ہے اور فاصلے بڑھا رہا ہے۔تیسرے نمبر پر United Kingdom ہے یعنی انگلستان کی جماعت جہاں میں آج کھڑے ہوکر یہ خطبہ دے رہا ہوں۔اس جماعت میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قربانی کا بڑا جذ بہ ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وصولی کے انتظام میں کوئی کمزوری ہے کیونکہ آج تک کی جیسی رپورٹ بعض دور دور کے ممالک سے مل گئی ہے یہاں سے نہیں مل سکی اور تازہ رپورٹ میں ایسی نہیں پیش کر سکتا جس کے مطابق میں آپ کو بتا سکوں کہ برطانیہ کا نوے ہزار کا وعدہ تھا اور تا حال وصولی کی اطلاع اکہتر ہزار سات سو دو پاؤنڈ ہے جبکہ جرمنی کا وعدہ ایک لاکھ پینتیس ہزار پاؤنڈ تھا اور وصولی تاحال ایک لاکھ چھتیس ہزار ہو چکی