خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 647 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 647

خطبات طاہر جلد ۹ 647 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۹۰ء کر پھر وہ جڑیں خود پیدا کرتی ہیں اور جب جڑیں قائم ہو جاتی ہیں تو وہی بار یک سی رگ جو پہلے ایک کونپل کی طرح معمولی سی پھوٹتی ہے وہ ایک بہت مضبوط نتا بن جاتی ہے اور پھر اس سے برگد کا درخت مزید پھیلنے لگتا ہے۔پس الہی جماعتوں کی دنیا میں نشر و اشاعت کی ایسی ہی مثال ہوا کرتی ہے۔اولین دور میں اسلام بھی اسی طرح دنیا میں پھیلا تھا اور اس آخرین دور میں بھی اسلام کا احیائے نوجو جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہو رہا ہے وہ اسی طریق پر ہو رہا ہے۔پس اس گزشتہ چھپن ۵۶ سال کے عرصے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ چند جماعتیں حدودے چند ہی نہیں بلکہ اپنی قوت اور کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے بھی بہت کمزور تھیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۲۴ ممالک میں پھیل گئیں اور ہر جگہ جڑیں قائم کیں اور سب جڑیں زمین میں خوب گہری پیوستہ ہوگئیں اور ان کے تنے اب بلند ہو رہے ہیں اور بعید نہیں کہ وہ بھی آئندہ چند سالوں میں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔جہاں تک مشنز کا تعلق ہے اس وقت دنیا بھر میں تبلیغی مشن جن میں با قاعدہ احمدی مبلغین کام کر رہے تھے اور تبلیغی مراکز تھے ، چھ تھے اور آج ان کی تعدادا ۳۰ تک پہنچ چکی ہے۔جہاں تک چندوں کا تعلق ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے پہلی تحریک ساڑھے ستائیس ہزار کی کی اور اس زمانے کے لحاظ سے جماعت اتنی غریب تھی کہ ساڑھے ستائیس ہزار ہندوستانی روپیہ ایک بہت بڑی تحریک معلوم ہوئی اور بہت سے سننے والے خوفزدہ تھے کہ کس طرح یہ تحریک پوری ہوگی۔کس طرح جماعت اس پر لبیک کہہ سکے گی لیکن اس قدر عشق اور والہانہ جذبے کے ساتھ جماعت نے اس تحریک پر لبیک کہی کہ جنوری کے خطبے میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ میں نے ساڑھے ستائیس ہزار کی تحریک کی تھی اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے امید تھی کہ اتنا روپیہ پورا ہو جائے گالیکن اب تک ۳۳ ہزار روپے نقد وصول ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ چھبیس ہزار سے زائد کے وعدے آچکے ہیں۔اس زمانے میں یہ اتنی بڑی تحریک سمجھی گئی کہ ہندوستان کے متفرق اخباروں نے ، ہندو اخباروں نے بھی اور مسلمان اخباروں نے بھی اور عیسائی اخباروں نے بھی اس بات کا نوٹس لیا اور بڑے بڑے مقالے لکھے گئے ، اداریے لکھے گئے ، بڑی بڑی سرخیاں لگائی گئیں کہ دیکھو خلیفہ قادیان کتنا زیرک ہے اور کتنا اپنی جماعت کو آگے لے جا چکا ہے اور جماعت کا بھی حال یہ ہے کہ ساڑھے ستائیس ہزار کی تحریک کی اور