خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 612
خطبات طاہر جلد ۹ 612 خطبہ جمعہ ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۰ء بعد جو دعائیں ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب تھا وہ دعاؤں سے پہلے بھی بعض دفعہ قبول فرمالیتا ہے اور اس کثرت سے احباب جماعت کے خطوط ملے ہیں اس قدر درد سے بلک بلک کے احباب نے ، ساری دنیا میں دعائیں کی ہیں کہ یہ ناممکن تھا کہ ان کا فیض نہ پہنچتا۔پس یہ مثال ہے ان لوگوں کی جو خدا سے براہ راست نور یافتہ ہوں خدا سے براہ راست فیض یافتہ ہوں۔وہ بھی سورج بن کر ابھرتے ہیں اور تمام عالم میں ان کا فیض پہنچتا ہے۔اس لئے اگر نجی ہو یا امریکہ ہو یا افریقہ ہو یا پاکستان یا ہندوستان ، کہیں بھی کوئی احمدی ہے اس کی دردناک دعاؤں کا فیض میں نے خود دیکھا ہے، ہم تک پہنچتارہا اور آخری شکل یہ ہے کہ جو ماہرین نے دیکھا ان میں سے ایک نے ہمارے ایک احمدی ماہر قلب کو امریکہ فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں خلاصہ تو صرف یہ کہ سکتا ہوں کہ یہ معجزہ ہے۔اس کے سوا ہمیں کچھ مجھ نہیں آتی کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا کیونکہ جس بیماری میں بظاہر مرنا یقینی تھا اس بیماری سے نہ صرف شفا ملی بلکہ اس کے بعد مسلسل اس بیماری کو چیلنج کیا گیا کہ آؤمار کے دکھاؤ اور پھر بھی اس بیماری کو توفیق نہیں ملی مارنے کی اور پھر شفا اس نوعیت کی ہوئی کہ ماہر قلب نے مجھے خود بتایا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا ہوا ہے بیماری کا کوئی بداثر جو زندگی بھر دل کے ساتھ چمٹ جایا کرتا ہے وہ ان کی صورت میں نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر احتیاط کی جائے ابھی تو وقت لگے گا تین مہینے ابھی اس زخم کو مندمل ہونے میں لگیں گے جو کافی بڑے حصے پر واقع ہے۔وہ کہتے ہیں احتیاط تو لازمی ہے لیکن اب تک جو صورت حال ابھری ہے وہ یہی ہے کہ اس کی ان پیچیدگیوں سے اللہ تعالیٰ نے بچالیا ہے جو بالعموم ایسے مریضوں کو لاحق ہو جایا کرتی ہیں۔اس ضمن میں ایک چھوٹا سا ایک واقعہ دلچسپ سا سنادوں اور اس سے اندازہ ہوجاتا ہے انسان کو کہ بعض دفعہ ضروری نہیں کہ الہام ہو لیکن ایسے واقعات ہوتے ہیں۔جو خدا کی طرف سے پیغام بن جاتے ہیں اور انسان اس کو پیغام کے طور پر سمجھ لیتا ہے اور اس کی پہچان کے بھی واضح نشانات ہوا کرتے ہیں جس وقت ان کی بیماری نے ایک شدت اختیار کی اور ڈاکٹر نے بالآخر ہمیں بتایا کہ دل کا شدید حملہ ہے اور Complete Heart Failure میں جاچکی ہیں اس وقت دعا کے بعد میں لیٹا تو میں نے ٹیلی ویژن خبروں کیلئے آن کیا۔لیکن عجیب بات ہے کہ اس چینل پر خبروں کی بجائے پنجابی کی ایک قوالی آرہی تھی یہاں انگلستان میں اور وہ قوالی یہ تھی، مجھے لفظ تو پورے یاد نہیں، کہ