خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 587

خطبات طاہر جلد ۹ 587 خطبه جمعه ۵ اکتوبر ۱۹۹۰ء پس یہ وہ مقام ہے جو انتہائی خطرناک مقام ہے اس کا آغا ز اسی کمزوری سے ہوا ہے جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا کہ آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ دنیا یہی ہے اس کے بعد کوئی زندگی نہیں اگر ہے تو شاید بھوت پریت قسم کی زندگی ہو۔شاید روحوں کا دنیا میں بھٹکتے رہنا اور اپنے دنیا کے ہو۔تعلقات کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کرنا اس زندگی کا مزاج ہے۔اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں لیکن جواب طلبی کے نقطہ نگاہ سے یہ لوگ اُخروی زندگی کے قائل نہیں رہتے۔آج کل مغربی دنیا میں ایک یہ بھی رجحان بڑھ رہا ہے کہ مرنے کے بعد کی زندگی کے تذکرے کئے جائیں اور سائنسی لحاظ سے یا فلسفیاتی لحاظ سے یہ ثابت کیا جائے کہ مرنے کے بعد انسان کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہے گا۔میں نے اس قسم کے لٹریچر کا مذہبی نقطہ نگاہ سے بڑا گہرا مطالعہ کیا ہے اور میں اس مطالعہ کے بعد آپ کو وثوق سے بتاتا ہوں کہ ان کا مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین کرنا یا اس کی باتیں کرنے کا جو رجحان ہے اس کا جواب طلبی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔آپ کسی جدید لٹریچر میں یہ بات نہیں پائیں گے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح کسی شکل میں اس لئے زندہ رہے گی کہ وہ خدا کی طرف لوٹائی جائے اور خدا اس سے جواب طلبی کرے۔اس مضمون کا دور سے بھی کوئی ذکر ان کی کتابوں میں اور ان کی تحقیقات میں آپ کو نہیں ملے گا۔ان کا مرنے کے بعد کی زندگی کا تصور ایک خوش فہمی سے تعلق رکھتا ہے۔ایک خام خیالی سے تعلق رکھتا ہے۔موت سے تو ان کو انکار نہیں ہے اور ہر انسان کا دل چاہتا ہے کہ میں ہمیشہ کے لئے زندہ رہوں اور زندگی کے انقطاع کے بعد ایک بے چینی لگ جاتی ہے۔ہر انسان سمجھتا ہے کہ کیا یہی سب کچھ تھا۔میں پیدا ہوا میرے تعلق والے دوست پیدا ہوئے ، ہمارے بڑے پیدا ہوئے اور آکے گزر گئے اور بس یہ سلسلے ختم ہو گئے۔یہ سوال ان کو بے چین کر دیتا ہے دل چاہتا ہے کہ کسی طرح مرے ہوؤں سے تعلق جوڑ سکیں۔اس خواہش کی بنا پر نہ کہ خدا سے تعلق جوڑنے کی خواہش کی بناء پر یہ ایک فرضی زندگی کا تصور باندھتے ہیں اور اسی کے اوپر مضامین لکھتے ہیں۔چنانچہ مرنے کے بعد کی زندگی کا ان کا مضمون یہیں ختم ہو جاتا ہے کہ ہمارے پرانے تعلق والے عزیز یا دوست جو مر گئے وہ کسی نہ کسی شکل میں زندہ رہ کر ہم سے دوبارہ تعلق قائم کر سکتے ہیں اس مضمون کا قرآنی مضمون سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ خدا کی طرف لوٹائے جائیں گے اور دنیا سے ان کا تعلق ہمیشہ کے لئے منقطع ہو جائے گا۔وَحَرام عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبیاء : ۹۲) کہ ہم