خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 584

خطبات طاہر جلد ۹ 584 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۹۰ء قرآن کریم نے جو عقائد پر زور دیا ہے اور ایمانیات پر زور دیا ہے وہ محض ایک فرضی بات نہیں بلکہ ہر عقیدے کے ساتھ بعض اعمال کا گہرا تعلق ہوتا ہے اور ہر حقیقت کے انکار کے نتیجے میں بعض بدیاں لازماً پیدا ہوتی ہیں۔پس آخرت پر یقین پر جو زور دیا جاتا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اگر آخرت پر سے ایمان اٹھ جائے تو دنیا کی طرف رجحان اسی نسبت سے بڑھتا چلا جاتا ہے اور اسی حد تک انسان گناہوں پر جرات کرتا چلا جاتا ہے۔پس وہ لوگ جو آخرت کو ظن کی باتیں سمجھنے لگتے ہیں وہ اس دنیا میں کسی قیمت پر بھی اپنی لذتوں سے کنارہ کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ فرضی باتوں کے اوپر ہم آج کی لذتوں کو کیوں قربان کریں۔یہ وہ مضمون ہے جس کے نتیجے میں بداعمالیاں پیدا ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں حق کو قبول کرنے سے محرومی پیدا ہوتی ہے۔یہ دو باتیں ہیں جو قرآن کریم نے کھول کر بیان فرمائی ہیں ، پس وہ قو میں جو اسلام سے دور ہیں جب آپ ان کو اسلام کا پیغام پہنچاتے ہیں تو آپ کو یہ یادرکھنا چاہئے کہ ان میں بھاری اکثریت خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی آخرت پر وہ یقین نہیں رکھتی جو آپ رکھتے ہیں یا آپ کو رکھنا چاہئے اور اس کے نتیجے میں محض دلائل کافی نہیں ہیں اور ایسا طریق اختیار کرنا ضروری ہے یا ایسے دلائل دینا بھی ضروری ہے جن کے نتیجے میں اُخروی زندگی پر ایمان بڑھے اور انسان کواس بات کا احساس پیدا ہو کہ میں آزاد نہیں ہوں میری ضرور جواب طلبی ہوگی۔یہ جواب طلبی کا جو فقدان ہے یہ دنیا میں کئی شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے اور اس کا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قرآن کریم کے مضمون کی روشنی میں ہر قسم کی بد اعمالیوں سے تعلق ہے چنانچہ آج کل مغربی دنیا جس دور میں داخل ہو رہی ہے وہ صرف آخرت کی جواب طلبی کے انکار کا دور نہیں بلکہ دنیا کی جواب طلبی سے بھی انکار کا دور ہے اور انفرادی آزادی پر امریکہ میں اور یورپ میں زور دیا جا رہا ہے یہ اگلا قدم، یہ اگلا دور ہے جس میں وہ داخل ہوچکے ہیں۔مذہب سے دوری کا پہلا وہ دور ہے جو آخرت میں جواب طلبی سے انکار کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں خدا سے تعلق رکھنے والی ساری ذمہ داریوں کو انسان اپنی گردن سے اتار کے پھینک دیتا ہے اور ساتھ ہی بنی نوع انسان سے تعلق رکھنے والی ان ذمہ داریوں کو بھی انسان ترک کرنے لگتا ہے جن کا مذہب سے تعلق ہو اور مذہبی تعلیم سے تعلق ہو۔یہ دور یورپ کی گزشتہ ایک