خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 574
خطبات طاہر جلد ۹ 574 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۹۰ء کرے۔ہم کیا کہتے ہیں خدا یہ کہتا ہے اور قرآن کریم اس مضمون سے بھرا پڑا ہے۔اس میں جماعت کے کسی عہدیدار کا قصور نہیں اگر نعوذ باللہ قصور ہے تو پھر خدا سے پوچھو کہ کیوں خدا نے قرآن کریم کو ہر ہر صفحے پر اس مضمون سے بھر دیا ہے کہ خدا کے حضور کچھ پیش کرو اور یہ بھی یاد دہانی کراتا جاتا ہے کہ تمہیں ضرورت ہے اس کو ضرورت نہیں ہے۔پس ان ضرورتوں میں سے ایک ضرورت یہ ہے کہ مالی قربانی کے نتیجے میں اخلاص نصیب ہوتا ہے تقویٰ نصیب ہوتا ہے اور انسان کے نفس کو پاکیزگی عطا ہوتی ہے ، دنیا کی محبت نصیب ہوتی ہے، دنیا کی بدیوں سے تعلق کم ہو جاتا ہے اور انسان جب مالی قربانی کے نتیجے میں آگے قدم بڑھاتا ہے تو تمام ایسی بدیاں جن میں مالی قربانی نہ کرنے والا عام طور پر مبتلا ہو جایا کرتا ہے ان سے رفتہ رفتہ اس کو نجات ملنے لگتی ہے رجحانات بدل جاتے ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا دن بدن ایسے شخص کو اپنی طرف کھینچتی چلی جاتی ہے۔پس شروع میں ہوسکتا کہ اس میں دوسری بدیاں موجود ہوں ، بعض دوسری کمزوریاں موجود ہوں مگر ایک مالی قربانی کرنے والے کو ہم نے ضائع ہوتے کبھی نہیں دیکھا۔کچھ کمزوریاں رہ بھی جائیں تو اللہ رفتہ رفتہ ان کی اصلاح فرما دیتا ہے۔ایک تو اس سے صرف نظر کا معاملہ فرماتا ہے جو ایک بہت ہی عجیب سلوک ہے۔آپ کو جس شخص سے پیار ہو جب آپ اس کی کمزوری نہ دیکھنا چاہیں تو آپ ایسی حالت میں اگر اس کو پکڑیں بھی جہاں اس کا جرم ثابت ہوتا ہو تو بعض دفعہ نظر پھیر کے چلے جاتے ہیں گو یاد یکھا ہی نہیں۔بعض اپنے بچوں کی بری باتیں سنتے ہیں اور ان سنی کر دیتے ہیں وہ چاہتے بھی نہیں کہ ہم انہیں سنیں۔تو اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس نے بھی یہ رنگ اختیار فرمایا ہوا ہے۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جب اپنے پیاروں سے بعض غلطیاں دیکھتا ہے تو ان سے عضو فرماتا ہے۔وَاعْفُ عَنَّا (البقرہ:۲۸۷) کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا! ہم سے عفو فرما، یعنی ہم جب گناہ کر رہے ہوں تو گویا تو ہمیں نہیں دیکھ رہا۔تو پیار کے طور پر اپنی نظر ہم سے پھیر لے۔تو جو مالی قربانی کرنے والے ہیں ان کے متعلق مجھے علم ہے کہ خدا تعالیٰ ان سے زیادہ عضو فرماتا ہے اور پھر اگلا حصہ مغفرت کا ہے اور پھر اس سے اگلا حصہ ہے۔كَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (آل عمران :۱۹۴) مالی قربانی کرنے والوں کی بدیاں دور ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ اس حالت کو پہنچ جاتے ہیں کہ وہ