خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 573
خطبات طاہر جلد ۹ 573 خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ء جواب میں رپورٹیں آنی شروع ہوئیں تو پتا چلا کہ افریقہ کے غریب ترین ممالک میں بھی ، غریب ترین علاقوں میں بھی خدا کے فضل سے مالی قربانی کی روح موجود ہے۔بیدار ہورہی ہے اور بھی اور جب بھی کہا جاتا ہے تو غریب سے غریب آدمی بھی ضرور کوشش کرتا ہے کہ کچھ نہ کچھ وہ خدا کے حضور پیش کرے۔یہ سلسلہ اگر ہر افریقن ملک میں جاری ہو جائے اور تمام جماعت مالی قربانی کی پابندی اختیار کرلے اور حسب توفیق جو کچھ ہو سکتا ہے خدا کے حضور پیش کرے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دیکھتے دیکھتے ان احمدیوں کی وجہ سے سارے افریقہ کی تقدیر بدل جائے گی اور ان کے سارے اقتصادی مسائل کا حل اسی میں ہے کہ وہ خدا کی خاطر کچھ پیش کرنا سیکھ لیں۔پس ضرورت سے مراد ایک یہ ضرورت ہے اور درحقیقت یہی ضرورت ہے جس کی طرف بار بار توجہ دلانی چاہئے کہ خدا غنی ہے تم لوگ فقیر ہوا اپنے فقر کا علاج کرو اور فقر کا دوسرا علاج ایمان کی دولت سے ہوتا ہے۔زکوۃ کے نتیجے میں اور خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے نتیجے میں ایمان نصیب ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا ملتی ہے جو باتیں میں نے پہلے بیان کیں ان پر مومن نظر نہیں رکھتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک چھوٹی جزاء ہے اور جانتا بھی ہے کہ یہ تو ملنی ہی ملنی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں قربانی کرنے والوں کو کبھی بھی تنہا اور اکیلا نہیں چھوڑا کبھی ان کو دنیا کا فقیر نہیں بنایا۔پس فقیر تو بنا ہے۔فقراء کا مطلب ہے تم بہر حال فقراء ہو، چاہو تو خدا کے در کے فقیر بن جاؤ، چاہو تو دنیا کے فقیر بن جاؤ۔پس بہترین نسخہ یہی ہے کہ خدا کا فقیر انسان بن جائے اور دنیا کے فقیر سے اسے استغناء نصیب ہو جائے اور ان معنوں میں وہ بھی غنی بن جائے۔بہر حال دوسرا پہلو جو بہت ہی اہم ہے جس پر مومن کی نظر رہتی ہے وہ ہے مالی قربانی کے نتیجے میں خدا کی رضا نصیب ہوتی ہے اور یہ بھی ایک طے شدہ حقیقت ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ خدا کی راہ میں مالی قربانی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی مراتب عطا ہوتے ہیں اور یہ کوئی دنیاوی سودا نہیں ہے کہ اس کے بدلے زیادہ پیسے دیدیئے تو بات طے ہوگئی۔قربانی چونکہ خدا کی خاطر کی جاتی ہے اس لئے اس کی جزاء خدا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا نصیب ہوتی ہے۔بعض لوگ اپنی جہالت میں کہہ دیتے ہیں کہ جی آپ لوگوں نے تو جماعت کو بس مالی قربانی، مالی قربانی کہہ کہہ کے اور کسی طرف توجہ ہی نہیں رہنے دی۔لوگ سمجھتے ہیں کہ نیک وہی ہے جو مالی قربانی