خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 570

خطبات طاہر جلد ۹ 570 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۹۰ء نہیں تھا خدمت کے لئے کچھ لوگ آئے اور کچھ پیش کر دیایا کبھی لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لئے جنگل میں چلے گئے اور واپس لا کے کچھ بیچ کر گزارہ کیا۔اس طرح ان کی گزراوقات تھی لیکن چند سال کے عرصے میں ہی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے گھر اس طرح دولتوں سے بھر دیئے کہ تاریخ میں اس قسم کے انقلاب کی آپ کو کوئی اور مثال دکھائی نہیں دے گی۔دیکھتے دیکھتے صرف ان چند مسلمانوں ہی کے نہیں جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ وابستہ تھے اور آپ کی خاطر سب کچھ لٹا کر آپ کے در پر آ بیٹھے تھے بلکہ ان کے ساتھیوں کو بھی ، نئے آنے والوں کو بھی ، ان کی اولا دوں کو بھی خدا نے اتنی دولتیں عطا کی ہیں کہ اب بھی آپ کبھی سپین جائیں تو وہاں کے جو آثار باقیہ ہیں وہاں اس دولت کے نشان ملتے ہیں۔یہ درست ہے کہ مساجد کو سونے سے سجانا اسلامی تعلیم نہیں ، لیکن ایک وقت ایسا آیا تھا کہ جب بادشاہوں کو یا حکومتوں کو اتنی دولت ملی تھی کہ ان کو کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس سے کیا کریں؟ غرباء کے حقوق پورے کرنے کے بعد یونیورسٹیوں پر خرچ کرنے کے بعد، اقتصادیات کی حالت بہتر بنانے کے لئے ہر قسم کی سکیمیں چلیں لیکن سونے کے انبار لگ گئے تھے اور جواہر کے انبار لگ گئے تھے۔وہ مساجد جو سپین میں اب بھی دکھائی دیتی ہیں یعنی بڑی بڑی بلند عمارتیں جو مساجد کے ساتھ وابستہ ہیں وہ بھی اور مساجد بھی اس پر انہوں نے سونالگا نا شروع کیا اورسونے سے اس پر کام کرنے شروع کئے اور جواہر جڑنے شروع کئے۔سپین کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ جب مسلمانوں کا انخلا ہوا ہے تو اتنا سونا اور اتنے جواہر۔وہاں سے لوٹے گئے ہیں کہ اس کو ضبط تحریر میں لانا مؤرخ کے لئے مشکل معلوم ہوتا ہے۔کسی نے کوئی اندازہ پیش کیا کسی نے کوئی اندازہ پیش کیا۔لیکن یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سونے اور جواہرات کی گاڑیوں کی گاڑیاں بھر کے وہاں سے دوسری جگہوں پر منتقل کی گئیں۔تو دولت خدا کے ہاتھ میں ہے اور خداغنی ہے اور ہم فقیر ہیں، یہ قرآن کریم کا اعلان ہے جس کو اس نے ہر دور میں ہمیشہ مختلف رنگ میں سچا کر کے دکھایا ہے وہ چند صحابہ جنہوں نے خدا کی خاطر قربانیاں کی تھیں چند روٹی کے ٹکڑوں کی قربانیاں تھیں۔چند کپڑوں کی قربانیاں تھیں اس سے زیادہ تو عرب کی حالت ہی کوئی نہیں تھی عرب کی مجموعی اقتصادی حالت ایسی تھی کہ چند ایک امیر ہو جا ئیں تو باقی سب کے لئے لازما غریب ہونا تھا۔پس ان کی قربانی بھی چند ٹکوں کی ، چند روٹیوں کی قربانیاں ہی تھیں لیکن خدا نے پھر اتنی دولت عطا کی