خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 557
خطبات طاہر جلد ۹ 557 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء نہیں کی جاتیں بلکہ تقویٰ کے پیش نظر کی جاتی ہیں۔وہاں ایسے بھی بزرگ تھے جو ہر لحاظ سے بلند مقام اور مراتب رکھتے تھے ، اپنے عہدوں کے لحاظ سے بھی، دنیا کے لحاظ سے بھی۔ان کو اس وجہ سے کہ خدا نے ان کو دنیاوی عزت دی ہے حسد کا شکار نہیں بنایا جا تا تھا۔تقویٰ کی سوسائٹی کا ایک یہ بھی پہلو ہے جسے پیش نظر رکھنا چاہئے۔بعض جہلاء تقویٰ کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ صرف غریب کی عزت کی جائے اور امیر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے لیکن متقی وہ ہے جو تقویٰ کی عزت کرتا ہے تقویٰ اگر گودڑی میں بھی دکھائی دے تو وہ اس سے محبت کرے گا اور پیار کرے گا اگر شاہانہ فاخرانہ لباس میں بھی دکھائی دے تب بھی وہ تقویٰ سے پیار کرے گا نہ گودڑی کے چیتھڑے اسے تقویٰ کی عزت کرنے سے باز رکھ سکیں گے، نہ فاخرانہ لباس کی چمک دمک اس کی نظر میں شامل ہو سکے گی کیونکہ اس کی نظر تقویٰ کی عاشق ہوتی ہے۔جہاں بھی دکھائی دے وہ اس کی عزت کرتی ہے۔پس یہ تقویٰ کا وہ اکرام ہے جو ہم نے اس آیت کریمہ سے سیکھا۔جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ انْقُكُمْ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ تمہارا خدا تقویٰ کو عزت دیتا ہے۔اگر اس خدا سے تمہیں محبت اور تعلق ہے تو تم بھی ہمیشہ تقوی کو عزت دینا۔اگر سوسائٹی میں تقویٰ کو عزت دی جائے تو تقویٰ پہنچتا ہے اور بڑی عمدگی سے نشو ونما پاتا ہے جیسے بہار میں پودے جو پہلے مرجھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ از خودنئی نئی کونپلیں نکالنے لگتے ہیں۔نئے رنگ ان پر ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح تقومی کے لئے ایک ماحول کی ضرورت ہے اور یہ ماحول جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔یہ تقویٰ کی افزائش میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں جیسا کہ بہار ہو یا برسات ہو تو بعض غلط جڑی بوٹیاں بھی سر نکالنے لگتی ہیں ایسے ماحول میں بعض دفعہ دنیا دار لوگ بھی نیکی کے لبادے اوڑھ کر ذاتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں نمائش آجاتی ہے اور وہ تقویٰ کو بعض دفعہ پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ایسی عورتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو پیر بنتی ہیں اور ان کی جو ایجنٹس ہیں وہ مشہور کرتی ہیں کہ فلاں بی بی جو ہے وہ بڑی نیک ہے وہ اتنی تہجد پڑھتی ہے اتنی نمازیں پڑھتی ہے کسی ضرورت کے وقت اس کے دربار میں حاضری دو گے مرادیں پوری ہوں گی۔یہ مرض بڑھ کر پھر قبر پرستی تک پہنچ جایا کرتی ہے۔ایسے خطرناک اڈوں سے پناہ مانگنی بھی ضروری ہے اور بعض باتیں جو بچے تقویٰ اور دکھاوے کے تقویٰ میں تفریق کرنے والی ہیں ان کو آپ پیش نظر رکھیں۔