خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 556
خطبات طاہر جلد ۹ 556 خطبہ جمعہ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء بے حد عزت کی جاتی تھی۔مجھے یاد آیا ہماری مسجد مبارک کے نیچے سیڑھیاں اترتے ہی بائیں طرف ایک چبوترے کے اوپر شمس الدین مرحوم ایک درویش تھے جو مفلوج تھے اور ان کا گزارا بھیک پر تھا لیکن شاید کم ہی دنیا کے کسی بھکاری نے اتنی عزت پائی ہو جتنی بھائی شمس الدین کی عزت کی جاتی تھی کیونکہ یہ بھی ہمارے معاشرہ کا ورثہ تھا کہ چونکہ وہ نیک انسان تھے اور خدا سے تعلق رکھنے والے انسان تھے اور بھکاری اس رنگ کے نہیں تھے کہ بھیک کی خاطر بیٹھے ہوں۔ایک مفلوج آدمی بیٹھا تھا جو آئے کبھی عزت اور محبت کے ساتھ کچھ دے جائے تو اس کو دعا دے کر قبول کرتے تھے اور اسی سے چندے بھی دیا کرتے تھے۔ان کے اس مقام کا ایک احترام قائم تھا اور بچے بھی جب گزرتے تھے تو بھائی شمس الدین کہہ کے ، سلام کر کے ادب سے جھک کر وہاں سے گزرا کرتے تھے۔وہاں بعض پاگلوں کی بھی عزت کی جاتی تھی کیونکہ وہ نیکی کی حالت میں پاگل ہوئے اور پاگل پن کی حالت میں بھی نیکی ساتھ چل رہی تھی اور ان کے ساتھ بھی بڑی محبت اور احترام کا سلوک کیا جاتا تھا۔چنانچہ ایک ایسے ہی پاگل تھے جو مجھے یاد ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مردانے میں بڑے حق کے ساتھ داخل ہوا کرتے تھے ، ان کا جو مطالبہ ہو وہ وہاں پورا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔مجلس میں بیٹھتے تھے اپنے رنگ کی باتیں کر کے چلے جایا کرتے تھے اور پاگل پن تو تھا لیکن پاگل پن کے ساتھ کچھ نیکی کی حکمت بھی ہوتی تھی۔وہ جو ہمارے معاشرے میں مجذوب کا تصور پیدا ہوا ہے وہ غالبا اسی وجہ سے ہوا ہے جو بیرونی معاشروں میں نہیں ملتا۔مجذوب ایسے پاگل کو کہتے ہیں جو غالباً پاگل ہونے سے پہلے خدا سے تعلق رکھنے والا ہوتا تھا اور اس کی وجہ سے پاگل پن میں بھی اس تعلق کی جزاء اس کو ملتی رہتی ہے اور اس کے منہ سے بعض دفعہ بہت سے عارفانہ کلمات جاری ہوتے رہتے ہیں۔جہاں جاہل سوسائٹی ہو وہاں وہ اس نکتے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پاگلوں کی عزت کرنے لگ جاتے ہیں۔ہر فقیر، پاگل ، بے وقوف خواہ وہ گندہی بکنے والا ہو اس کی بھی عزت کرنے لگ جاتے ہیں۔کہتے ہیں جی ! مجذوب ہے حالانکہ یہ جہالت ہے۔ہر شخص مجذوب نہیں ہوا کرتا۔مجذوب وہ پاگل ہے جس کے پاگل پن میں بھی خدا کے تعلق کے آثار ظاہر ہوں اور بسا اوقات اس کے منہ سے عرفان کی باتیں جاری ہوتی ہیں جو قرآن و حدیث اور سنت کے مضامین کے مطابق ہوتی ہیں ان سے ٹکرانے والی نہیں۔بہر حال جب ایسی سوسائٹی ہو تو جیسے میں نے بیان کیا ہے یہ عزتیں طبقات کے پیش نظر