خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 554 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 554

خطبات طاہر جلد ۹ 554 خطبه جمعه ۲۱ / تمبر ۱۹۹۰ء (الحجرات (۴) تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔یہ بات بالکل درست ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز شخص وہی شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔لیکن یہ بات بھی تو درست ہے کہ جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ متقی ہوگا وہ سب سے زیادہ اللہ کے رنگ ڈھنگ اختیار کرنے کی کوشش کرے گا۔پس ہر متقی کا کام ہے کہ تقویٰ کو عزت دے۔کیونکہ تقوی خدا کی نظر میں عزت پاتا ہے۔یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کو اپنے روز مرہ کے معاملات میں اختیار کرنے کے نتیجے میں جماعت میں تقویٰ کی قدر و قیمت بڑھے گی اور اس سلسلے میں بھی بعض خطرات ہیں جن سے بیچ کر چلنا ضروری ہے۔قادیان میں مجھے یاد ہے کہ ہم نے یہ باتیں ورثے میں پائی تھیں یعنی وہ نسلیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے ساتھ مل کر بڑھی ہیں اور اس ماحول کو انہوں نے پایا ہے۔ان کی اپنی کوئی خوبی نہیں تھی مگر صحابہ کی جو تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی تھی اس کے نتیجے میں یہ روز مرہ کی باتیں تھیں جن کا نصیحت سے تعلق نہیں تھا بلکہ ایک معاشرتی ورثہ تھا اور اس ورثے میں یہ بات شامل تھی کہ عزت کے لائق وہی ہے جو نیک ہے اور اس میں یہ کلاس کا جو فرق ہے یہ بالکل کلیۂ نظر انداز ہو جایا کرتا تھا یعنی مختلف طبقات جو دنیا کی نظر میں یعنی دنیا کے پیمانوں سے بنائے جاتے ہیں اور جن میں دنیا وی وجاہت ، عہدہ، مقام، مرتبہ، دولت یہ سارے وہ محرکات ہیں جو کسی نہ کسی رنگ میں حصہ لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں کلاسز کا وجود ابھرتا ہے اور طبقات بنتے ہیں۔یہ بھی ایک طبعی روز مرہ جاری رہنے والا سوشل نظام ہے اور اس سے مومن بھی کلیاً بچ ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ ایک نظام ہے جو خود بخود تشکیل پاتا چلا جاتا ہے اور طبقات ابھرتے چلے جاتے ہیں لیکن جہاں تک عزتوں کا تعلق ہے وہاں عزتوں کے معاملے میں مومن ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پیش نظر رکھتا ہے کہ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ الْقُكُمْ (الحجرات : ۱۴) طبقات بے شک ہوں۔ہم نے تمہیں شعوب اور قبائل میں بھی تقسیم کیا ہوا ہے اس طرح انسان بھی طبقات میں بٹ جاتا ہے لیکن جہاں تک عزتوں کا تعلق ہے، تم ہمیشہ تقوی کو عزت دینا کیونکہ خدا تقومی کو عزت دیتا ہے۔اس اصول کو ہم نے قادیان میں اس زمانے میں کارفرما دیکھا جس کا میں نے ذکر کیا ہے اور یہ میں