خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 553 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 553

خطبات طاہر جلد ۹ 553 خطبہ جمعہ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۰ء معیار پر فائز ہیں اور ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی تنقیدی نظر ہمیشہ لوگوں کو چھلنی کرتی رہتی ہے اور کبھی اندرونی نظر سے اپنے آپ کو نہیں دیکھتے اور یہ بھی نہیں دیکھتے کہ میری باتیں کس کو تکلیف پہنچاتی ہیں یا آرام پہنچا رہی ہیں۔میں بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے باتیں کر رہا ہوں یا اپنا ایک دیا ہوا جذبہ انتقام پورا کر رہا ہوں اور یہ ظاہر کر رہا ہوں کہ میں بہتر ہوں تم لوگ گندے ہو۔ایسے لوگ نیکوں پر بھی تنقید کرتے ہیں یہ بتانے کے لئے جی یہ فلاں بات میں تو نیک ہوگا۔آپ کو لگتا ہوگا اندر سے پھولوتو یہ حال ہے اور گویا خدا نے ان کو داروغہ بنایا ہوا ہے۔اندر سے پھولنے کا ، یہ پھولنے کا لفظ پنجابی ہے لیکن ہے بہت برحل اطلاق پانے والا اس لئے میں نے عمداً اس کو استعمال کیا ہے۔یعنی کرید کرید کر اندر سے تلاش کر کے قریب سے دیکھ کر معلوم کرنا کہ کون کون سے نقص اس پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں جو خدا کی ستاری کا پردہ ہے۔پس یہ خدا کی ستاری کے پردے کو چاک کر کے اس سے پرے جھانک کر مومنوں کی برائیاں تلاش کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔امیر کا منتظم کا ایسی آنکھ سے احتراز ضروری ہے اور ایسی سرشت سے اس کو تو بہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا چاہئے۔اس کی نظر بالکل اور طریق سے اپنی جماعت کو ، اپنے ماتحتوں کو دیکھتی ہے۔جیسے ماں اپنے بچے کو دیکھ رہی ہوتی ہے۔اس کی نظر میں پیار ہوتا ہے، اس کی نظر میں فکر ہوتا ہے، اس کی نظر جب کسی برائی کو تلاش کرتی ہے تو اس کو گہر اغم لگا دیتی ہے، روگ لگا دیتی ہے اور وہ بے چین ہو جاتا ہے دوسرے کو بے چین نہیں کرتا خود بے چین ہوتا ہے اور اس بے چینی کے نتیجے میں اس کے دل سے جو دعا میں اٹھتی ہیں ان میں ایک عجیب شان پیدا ہو جاتی ہے جو مقبولیت کی شان ہے اور اس کی نصیحت میں اثر پیدا ہو جاتا ہے۔پس اس پہلو سے خامیوں پر نظر رکھیں کیونکہ خامیوں کو دُور کرنے کی ذمہ داری ہر عہدیدار کی ذمہ داری ہے جو اپنے دائرہ کار میں اثر دکھائے لیکن اس نظر سے جس نظر سے میں نے آپ کو تلقین کی ہے اس نظر سے خامیوں پر نگاہ رکھیں اور ان کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہیں اور یاد رکھیں کہ جتنا زیادہ آپ اپنے ماتحتوں کے تقویٰ کے معیار کو بلند کریں گے اتنے ہی عظیم الشان کامیاب منتظم ثابت ہوں گے اور اللہ کی نظر میں آپ کا اپنا مرتبہ بلند ہوگا۔اس سلسلے میں ایک اور چیز بھی ہے جو قرآن کریم ہمیں تقویٰ کے معیار کو بڑھانے کے لئے بتاتا ہے۔اس کو خصوصیت سے پیش نظر رکھنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ