خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 550
خطبات طاہر جلد ۹ 550 خطبه جمعه ۲۱ / ستمبر ۱۹۹۰ء پس اس بات کو یاد رکھیں کہ جماعتی ذمہ داریاں بڑھنے کے نتیجے میں جہاں آپ کی ذمہ داریاں بڑھتی ہیں وہاں اللہ سے تعلق رکھنے کے نتیجے میں اللہ تعالی کی ذمہ داریاں بڑھتی ہیں اور وہ بندے جو خدا سے پیار کرتے ہیں اور خدا پر انحصار کرتے ہیں ان کے کام خدا خود آسان کر دیتا ہے اور ان کے کام از خود رواں ہو جاتے ہیں اس لئے سب سے بڑی نصیحت یہ ہے کہ کاموں کے بڑھنے کے نتیجے میں آپ خدا سے تعلق بڑھا ئیں اور اس پر انحصار کریں۔اس کا برعکس بہت ہی خطرناک ہے جہاں آپ یہ خیال کریں کہ گویا آپ کے زور پر کام چل رہے ہیں وہاں نفسانیت کا ایک کیٹر ا داخل ہو جاتا ہے جو نیک اعمال کو کھانے لگتا ہے اور وہیں کاموں میں خرابی کی بنیادیں پڑ جاتی ہیں، خرابی کا آغاز شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے وہ لوگ جو خدا ہی پر تو کل رکھتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ سارے کام خدا کے فضلوں سے چلیں گے وہ ہمیشہ دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے کام بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں اور بہتر ہونے کے نتیجے میں ان کو تکبر کی ٹھو کر نہیں لگتی بلکہ انکسار بڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ پر تو کل بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے محبت بڑھتی ہے۔اس کے لئے دل میں تشکر کے زیادہ جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اس کے رد عمل کے نتیجے میں پھر خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا ہے کہ جو بھی میرا شکر گزار بندہ ہو گا اس کو میں مزید دوں گا۔پس سب سے اہم نکتہ یہی ہے جس کو آپ یا درکھیں، پلے باندھ لیں کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی بھلائیں نہیں کہ انتظام خواہ کتنے ہی بڑے اور وسیع تر ہوتے چلے جائیں خدا کے فضل سے چلیں گے اور جولوگ خدا سے تعلق رکھتے ہیں ان کے کام آسان ہو جایا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ خودا اپنے فضل سے و وہ کام بنا دیتا ہے اس لئے اپنا تعلق بڑھائیں اور پھر دعاؤں پر زور دیں اور یا درکھیں کہ جب بھی کوئی مشکل پیش آئے سب سے پہلا خیال دعا کا ہونا چاہئے اور سب سے پہلا سہارا خدا کا ڈھونڈ نا چاہئے یہ عادت زندگی بھر آپ کے کام آئے گی اور ہمیشہ آپ کے سارے کام آسان کرتی چلی جائے گی۔دوسرا پہلو تقوی کا ہے جس کا اسی سے تعلق ہے۔اللہ سے تعلق بڑھانا ہو تو تقویٰ کا معیار بھی بڑھانا چاہئے اور اس پر میں بہت دفعہ گفتگو کر چکا ہوں لیکن یہ مضمون اتنا وسیع ہے بلکہ عملاً لا متناہی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح خدا کی ذات لامتناہی ہے اس طرح تقویٰ کا مضمون بھی لا متناہی ہے کیونکہ اس کا خدا کی ذات سے گہرا تعلق ہے۔تقویٰ کا تمام تر انحصار اللہ تعالیٰ پر ہے اس لئے متقی کے