خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 549 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 549

خطبات طاہر جلد ۹ 549 خطبه جمعه ۲۱ / ستمبر ۱۹۹۰ء طرح باقی عہدیداران بھی اس نصیحت میں شامل ہیں۔اگر وہ ان باتوں کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر کے ان سے منسلک ہو جائیں گے، زندگی بھر ان باتوں سے چھٹے رہیں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ ان کے سارے مسائل آسانی سے حل ہوں گے اور جماعت احمدیہ کے نظام کو چلانے کے متعلق کسی قسم کی بلا وجہ کی فکر لاحق نہیں ہوگی۔ایک فکر تو وہ ہوتی ہے جو ہر ذمہ دار آدمی کو ذمہ داری کے ساتھ ہی لاحق ہو جاتی ہے۔اس کا تعلق تو اس کی زندگی سے ہے۔موت تک یہ فکر اس کو دامنگیر رہتی ہے اور ایک فکر وہ ہوتی ہے جو بدانتظامی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔پس میں جس فکر کے دور ہونے کی خوشخبری دیتا ہوں وہ بدا نتظامی کے دور ہونے کی فکر سے نجات کی خوشخبری دیتا ہوں۔ذمہ داری کے فکر سے نجات کی خوشخبری نہیں وہ اگر میں دوں تو ایک بری خبر ہوگی۔تو ہر عہدیدار اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ، ایک فکر میں تو مبتلا ہے اور زندگی بھر مبتلا رہے گا اس کا فکر میں مبتلا رہنا اس کی زندگی کی علامت ہے اور اس کے اس فکر کے بڑھنے کی دعا کرنی چاہئے کم ہونے کی نہیں۔لیکن جہاں کام کے بوجھ بڑھنے کے نتیجے میں خلا رہ جاتے ہیں اور عہدیداران کی تربیت کی کمی کی وجہ سے پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں وہ فکریں بہر حال دور ہونی چاہیں اور ان کے دور ہونے کے علاج بھی سوچتے رہنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کی فکروں سے ہمارے تمام عہدیداران کو آزاد کرے۔پہلی بات تو اس مثال کے ساتھ آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو غالبا پہلے بھی بیان کر چکا ہوں اور آپ میں سے کئی نے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی کتاب میں پڑھی بھی ہوگی۔ایک موقعہ پر ان کی والدہ سے ہندوستان کے وائسرائے نے یہ سوال کیا کہ مجھے بتائیں کہ کیا ایک چھوٹے سے گھر کا انتظام چلانا زیادہ مشکل ہے یا ایک ایسی عظیم سلطنت کا انتظام چلانا جس پر سورج نہ غروب ہوتا ہو۔تو ان کی والدہ نے بڑے تحمل سے اور بڑی گہری فکر کیساتھ جواب دیا کہ اگر خدا کا فضل شامل حال نہ ہو تو چھوٹے چھوٹے گھر کا انتظام بھی چلایا نہیں جاسکتا چھوٹی سے چھوٹی ذمہ داری کو بھی ادا نہیں کیا جاسکتا اور اگر خدا کا فضل شامل حال ہو جائے تو بڑی سے بڑی سلطنت کا انتظام چلانا بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہر پہلو سے آسان ہو جاتا ہے خود بخود چلنے لگتا ہے۔تقویٰ کی کتنی گہری بات ہے جو صرف متقیوں کو نصیب ہو سکتی ہے اور ایک عارف باللہ کا کلام ہے اس کے سوا کسی کے ذہن میں ایسا خوبصورت، ایسا حسین ، ایسا حقیقی جواب آہی نہیں سکتا۔