خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 544
خطبات طاہر جلد ۹ 544 خطبه جمعه ۱۴ار تمبر ۱۹۹۰ء کو مختلف سمتوں میں پہاڑیوں پر چھوڑ بھی آؤ تب بھی وہ تمہاری آواز پر اڑتے ہوئے تمہارے قدموں میں پہنچ جائیں گے۔اسی طرح انسانی روحوں کی تشخیص ضروری ہوا کرتی ہے ورنہ تبلیغ کامیاب نہیں ہو سکتی ورنہ مردے زندہ نہیں ہو سکتے۔یہ دنیا جو مادہ پرست ہو چکی ہے اس کی مثال مردوں کی سی ہے اور یہ وہ مردے ہیں جن کو زندہ کرنا آپ کا کام ہے اور زندہ کرنے کی ترکیب خدا تعالیٰ نے سکھا دی ہے۔بجائے اس کے کہ بازاروں میں پھر کے صرف لڑیچر تقسیم کر دیا یا اسٹال لگا کے گھر آگئے کہ جی! ہم نے بڑی تبلیغ کر دی۔یا ویسے ہی بے ترتیب، بغیر کسی سلیقے کے بغیر کسی پروگرام کے بحشیں چھیڑ دیں اس کا نام تبلیغ نہیں ہے۔فَصُرْهُنَّ کے بغیر تبلیغ کا میاب نہیں ہو سکتی۔پس آپ کو ، ہر داعی الی اللہ کو لازماً اپنے ایسے دوست بنانے ہوں گے جن کے ساتھ اس کو مسلسل پیار کرنا ہوگا، بہت محبت کا سلوک کرنا ہوگا ، اس کی خدمت کرنی ہوگی۔ایسے دوست کو اپنے قریب کرنا ہوگا یہاں تک کہ وہ آپکی دنیاوی آواز پر لبیک کہنے کا اہل ہو جائے ، ایسا شخص آپ کی روحانی آواز کا بھی جواب دے گا۔یہ نکتہ ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔پس اچھے شریف لوگوں سے دوستیاں کریں اور امر واقعہ یہ ہے کہ دوستیاں ہم مزاج سے ہی ہوا کرتی ہیں اس سے ایک اور بات یہ سمجھ آگئی کہ جن کے مزاج مختلف ہیں ان پر آپ کیوں وقت ضائع کرتے ہیں۔جن کے مزاج ہی اور طرح کے ہیں ان کے ساتھ سر کرانا اور فضول بخشیں کرنا اپنے وقت کا ضیاع ہے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق ان کے ساتھ سر ٹکرانا ایسا ہی ہے جیسے سور کے سامنے موتی پھینک دیئے جائیں۔سؤر کو موتیوں کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔پس فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ سے یہ مضمون بھی سمجھ آ گیا کہ ہم مزاج لوگ تلاش کرو۔ایسے جو تمہارے مزاج سے ملتے جلتے ہیں۔ان سے پیار بڑھاؤ۔ان سے تعلقات قائم کرو۔ان سے دوستیاں لگاؤ اور ان کو قریب کرتے ہوئے پھران کو زندگی کا پیغام دو۔اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ زندہ کرنے والا میں ہوں۔اگر تم ایسا کرو گے تو میں زندہ کروں گا۔پس اس نکتے کو آزمانا چاہئے۔اس نسخے کو پھیلانا چاہئے اور یہ نسخہ خدا والوں کا نسخہ ہے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام خدا والے تھے۔اس لئے ان کے ہاتھ پہ یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا۔ایک ایسا شخص جو خودخدا سے تعلق نہیں رکھتا اسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک پرندہ جس نے خدا کے ساتھ انس اختیار نہیں کیا۔وہ پرندہ جو خدا کی آواز کا جواب نہیں دیتا وہ کیسے توقع رکھ سکتا ہے کہ لوگوں کو خدا کی