خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 487
خطبات طاہر جلد ۹ 487 خطبه جمعه ۲۴ راگست ۱۹۹۰ء واقعہ بیمار ذہن تھے جو راہنما بن کر ابھرے تو ان بیمارذہنوں کو پیدا کر نیوالی بیماری کو نسی تھی اور یہ نہیں سوچا کہ اگر بیمار سراڑ بھی دیئے جائیں تو جو بیماری باقی رہے گی وہ ویسے ہی اور سر پیدا کرتی چلی جائے گی اور کبھی بھی اس بیماری سے اور اس بیماری کے اثرات سے یہ نجات حاصل نہیں کر سکتے۔وہ بیماری کیا ہے؟ وہ اسرائیل کا قیام اور اس کے بعد مغرب کا مسلسل اسرائیل سے ترجیحی سلوک ہے۔جب بھی کسی دوراہے پر اسرائیل کے مفاد کو اختیار کرنے یا مسلمان عرب دنیا کے مفاد کو اختیار کرنے کا سوال اٹھا بلا استثناء ہمیشہ مغرب نے اسرائیل کو فوقیت دینے کی راہ اختیار کی اور مسلمان دنیا کے مفادات کو ٹھکرادیا۔پس اس بیماری کا خلاصہ ایک عرب شاعر نے اپنے ایک سادہ سے شعر میں یوں بیان کیا ہے کہ من كان يلبس كلبه شيء ويقنع لى جلدى ما الكلب خير عنده منی و خیر منه عندی کہ وہ شخص جو اپنے کتے کو تو پوشاکیں پہنا تا ہواور میرے لئے میری جلد ہی کو کافی سجھتا ہو، بلا شبہ اس کے لئے کتا مجھ سے بہتر ہے اور میرے لئے کتا اس سے بہتر ہے۔بعینہ یہی مرض کی آخری تشخیص ہے۔عرب دنیا کے دل میں یہ بات ڈوب چکی ہے اور ان کا یہ تجزیہ حقائق پرمبنی ہے کہ مغرب اپنے کتوں کو تو پوشاک پہنائے گالیکن ہمیں نگار کھے گا اور یہ صورتحال اسرائیل اور عرب موازنے میں پوری طرح صادق آتی ہے۔پس مغرب کا رد عمل ایسے مواقع پر ہمیشہ یہ ہوا کہ اس جاہل عرب دنیا سے بچنے کے لئے اور اس کے نقصانات سے دنیا کو بچانے کے لئے ایک ہی راہ ہے کہ اسے پارہ پارہ کر دو، ٹکڑے ٹکڑے کر دو اور آئندہ کے لئے اس کے اٹھنے کے امکانات کو ختم کر دو۔یہ ویسا ہی تجزیہ ہے گو اتنا ہولناک نہیں اور اتنا مجرمانہ نہیں جتنا پہلی جنگ عظیم کے بعد کیا گیا اور پھر دوسری جنگ عظیم کے بعد کیا گیا۔دونوں صورتوں میں وہ تجزیہ ناکام رہا وہ بنیادی محرکات جو نانسی ازم کو پیدا کرتے ہیں یا ناصریت کو پیدا کرتے ہیں یا صدا میت کو پیدا کرتے ہیں۔جب تک ان محرکات پر نظر ڈال کر اس مرض کی صحیح تشخیص کر کے اس کے علاج کی طرف متوجہ نہ ہوا جائے ، بار بار وہ سر اٹھتے رہیں گے اور دوسرے سروں کے کٹنے کا موجب بھی بنتے رہیں گے اور یہ پھوڑا پکتا رہے گا۔یہاں تک کہ کوئی ایسا وقت بھی