خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 486
خطبات طاہر جلد ۹ 486 خطبه جمعه ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء پر یہ صورتحال سلجھنے کی بجائے مسلسل الجھتی چلی جارہی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس تمام بے چینی کی جڑ اسرائیل ہے اگر چہ ہر لڑائی کے بعد مغرب نے اس کا ایک تجزیہ پیش کیا اور یہ بتایا کہ مشرق وسطی کے لوگوں کی کیا غلطی تھی ان کے راہنماؤں کا کیا قصور تھا جس کے نتیجے میں یہ سب نقصان پہنچے ہیں لیکن کبھی بھی انہوں نے مرض کی جڑ نہیں پکڑی اور اپنے طرز عمل میں اصلاح کی طرف کبھی توجہ پیدا نہیں کی۔مثال کے طور پر اس سے پہلے جنرل ناصر کے اوپر یہ الزام لگایا جاتا تھا کہ عبدالناصر ایک پاگل شخص ہے یہ اپنا توازن کھو بیٹھا ہے۔اس کو علم نہیں کہ اس کے مقابل پر طاقتیں کتنی غالب ہیں اور ان کے مقابل پر اس کی یا اس کے ساتھیوں کی ، سارے عربوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے۔جتنی دفعہ یہ جنگ کو جائے گا ہر بار ہزیمت اٹھائے گا اور پہلے سے بدتر حال کو پہنچے گا اس لئے مغربی دنیا کے تجزئے کے مطابق ایک پاگل را ہنما اٹھا جس نے اپنے جوش کی وجہ سے تمام قوم کے دل جیت لئے مگر ہوش سے عاری تھا اس لئے ان کی ہوش کے لئے اس نے کوئی چارہ نہ کیا۔نتیجہ اس کا ہر اقدام جواس نے اپنے دشمن کے خلاف کیا بالآخر اس پر اور اس کے ساتھیوں پر الٹا اور ہر بار جب اس کا مقابلہ غیروں سے ہوا تو نہ صرف یہ کہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ ہمیشہ اپنے ہاتھ سے کچھ کھویا اور مسلسل کھوتا چلا گیا۔یہی حال کچھ عرصے تک اس کے پیچھے آنے والے دوسرے راہنماؤں کا رہا۔پس پہلے دور کا تجزیہ یہ مغرب کے نزدیک مسلمانوں، عربوں میں سے اٹھنے والا ایک جوشیلا پاگل لیڈ رتھا اور یہی تجزیہ اب صدام حسین کے بارہ میں پیش کیا جارہا ہے اور تمام دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروائی جارہی ہے کہ لو ایک اور پاگل لیڈر اٹھا ہے۔ایسا پاگل لیڈر جس کی بنیادیں صرف ناصریت یعنی جنرل ناصر کے نظریات اور اس کے رویے پر ہی مبنی نہیں بلکہ ہٹلر میں بھی پیوستہ ہیں اور ہٹلریت میں پیوستہ ہیں جسے نانسی ازم (Natsizm) بھی کہا جاتا ہے۔اصل نام تو نائسی ازم ہے لیکن اس کا Symbol بن کر ھٹلر ابھرا تھا اس لئے ھٹلرانہ طرز عمل بھی اسے کہا جاتا ہے۔تو یہ آج کل مغربی دنیا میں ٹیلویژن وغیرہ کے اوپر بکثرت ہٹلر کے دور کی فلمیں دکھا رہے ہیں اور اس جنگ کے ایسے واقعات پیش کر رہے ہیں جس سے نائسی ازم کے دور کی یادیں مغرب میں تازہ ہو جائیں اور از خود بغیر کچھ کہے وہ نائٹسی ازم کے دور اور اس کے محرکات کو جنرل صدام حسین کے دور اور اس کے محرکات کے ساتھ وابستہ کر دیں۔پس یہ ان کا تجزیہ ہے لیکن کسی مغربی مفکر نے یہ نہیں کہا کہ اگر یہ