خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 473
خطبات طاہر جلد ۹ 473 خطبه جمعه ۷ ار اگست ۱۹۹۰ء عالم اسلام کے سر سے ٹال دے۔آب مسلمانوں کے گروہوں کا جہاں تک حال ہے یا مسلمانوں کے رد عمل کا جہاں تک حال ہے یہ ایک نہایت ہی خوفناک اور افسوسناک رد عمل ہے۔میں نے ایک پچھلے خطبے میں یہ بات بہت کھول کر عالم اسلام کے سامنے پیش کی تھی اور اخباروں میں بھی وہ بیان جاری کئے خواہ وہ شائع ہوئے یا نہ ہوئے لیکن میں نے ہدایت کی تھی کہ مسلمان سربراہوں کو اُن ہدایات کا خلاصہ یا ان مشوروں کا خلاصہ ضرور بھجوا دیا جائے۔خلاصہ اُس کا یہ تھا کہ قرآن کی تعلیم کی طرف لوٹیں کیونکہ قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِى شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ (النساء : ٢٠) جب تم آپس میں اختلاف کیا کرو تو محفوظ طریق کار یہی ہے جس میں امن ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی طرف بات کو لوٹایا کرو۔قرآن اور سنت جس طرف چلنے کا مشورہ دیں اسی طرف چلو اور اسی میں تمہارا امن ہے اور اسی میں تمہاری بقا ہے۔اس لئے بجائے اس کے کہ دُنیا کے سیاستدانوں کے ساتھ جوڑ تو ڑ کر کے اپنے معاملات طے کرنے کی کوشش کرو، قرآنی تعلیم کی طرف لوٹو اور قرآن کریم نے جو طریق کار واضح طور پر کھول کر بیان فرمایا ہے اس سے روشنی حاصل کرو اور وہ یہ ہے کہ صرف ایک قوم کے مسلمان نہیں بلکہ ہر ایسے جھگڑے کے وقت جس میں دو مسلمان ممالک ایک دوسرے سے برسر پیکار ہونے والے ہوں، تمام مسلمان ممالک اکٹھے ہو کر سر جوڑ کر اُس ایک ملک پر دباؤ ڈالیں جو شرارت کر رہا ہو ان کے نزدیک اور پھر انصاف کے ساتھ اُن دونوں کے معاملات سُن کر صلح کرانے کی کوشش کریں۔اگر اس کے باوجود صلح نہ ہو اور ایک دوسرے پر حملہ کرتا ہے تو یہ مسلمان ممالک کا کام ہے کہ وہ اس ایک ملک کا مقابلہ کریں اور غیروں سے مدد کا کہیں ذکر نہیں فرمایا گیا۔اگر اس تعلیم کو پیش نظر رکھا جاتا تو آج جو یہ حالات بد سے بدتر صورت اختیار کر چکے ہیں اور نہایت ہی خطر ناک صورت اختیار کر چکے ہیں ان کی بالکل اور کیفیت ہوتی۔قرآن کریم کی اس تعلیم سے میں یہ سمجھتا ہوں اور مجھے کامل یقین ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو ایک مسلمان ملک خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اُس کے مقابل پر سارے مسلمان ملک مل کر یہ اجتماعی طاقت ضرور رکھیں گے اور ہمیشہ رکھتے رہیں گے کہ اگر وہ اپنی ضد پر قائم ہو تو اُسے بزور د با دیا جائے اور اس کی انا توڑنے پر اسے مجبور کر دیا جائے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن کریم یہ تعلیم نہ دیتا۔یہ