خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 469
خطبات طاہر جلد ۹ 469 خطبه جمعه ۷ ار اگست ۱۹۹۰ء کرتے ہوئے یعنی ملک چھوڑنے کی کوشش میں انہوں نے گولیوں سے ہلاک کر دیا۔یہ ایک واقعہ ہے۔اس کے مقابل پر لبنان میں یا دیگر علاقوں میں یہود نے جو مسلسل مظالم کئے ہیں اور پھر یہودی ہوائی جہازوں نے عراق ہی کے ایٹمی پلانٹس کو جس طرح دن دھاڑے بڑی بے حیائی کے ساتھ تباہ و برباد کیا، ان سارے واقعات کو مغربی دنیا نے نظر انداز کیا ہوا ہے اور اس کے خلاف ایک انگلی تک نہیں اُٹھائی۔ایک علاقے میں ایک شخص مارا جاتا ہے، اس کے اوپر دنیا کے سارے اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن پر شور پڑ جاتا ہے کہ ظلم کی حد ہو گئی ہے۔ہزار ہا بوڑھے، بچے، جوان جو کیمپوں میں بالکل نہتے پڑے ہوئے ہیں اُن کو جب بالکل مظلوم حالت میں تہہ تیغ کر دیا جاتا ہے اور بچوں کے سر پتھروں سے ٹکراٹکرا کر پھوڑے جاتے ہیں، بلبلاتی ہوئی ماؤں کے سامنے اُن کے بچے ذبح کئے جاتے ہیں اور پھر اُن ماؤں کی باری آتی ہے۔لبنان کے ایک کیمپ میں اتنا ہولناک واقعہ گزر گیا ہے اور اس پر کسی نے کوئی شور نہیں مچایا۔تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف کی باتیں ہیں یا اور باتیں ہیں۔محرکات اگر انصاف پر مبنی ہیں تو پھر انصاف تو ایک ہی نظر سے سب دنیا کو دیکھتا ہے۔انصاف کے پیمانے بدلا نہیں کرتے۔اسی طرح عراق میں یہ مشہور کیا گیا کہ بعض انگریز ایئر ہوسٹسز (Air Hostesses) کے ساتھ وہاں کے فوجیوں نے انتہائی بہیمانہ سلوک کیا اور اُن کی آبروریزی کی اور اس پر بہت شور پڑا ہے۔کشمیر میں گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل مسلمان عوام اور غریب عورتوں اور بچوں پر شدید مظالم توڑے جارہے ہیں اور آبروریزی کے واقعات اس کثرت سے ہورہے ہیں اور ایسے دردناک واقعات ہیں کہ وہ جو مجھے اطلاعیں ملتی ہیں ان کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل لرز اٹھتا ہے کہ ایسے بہیمانہ اور سفا کا نہ سلوک بھی دنیا میں کئے جاسکتے ہیں۔کون سے مغربی ممالک ہیں جنہوں نے اس معاملے پر ہندوستان کو ملامت کا نشانہ بنایا ہو اور کون سا مغربی میڈیا ہے جس نے ان باتوں کو نمایاں کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا ہو؟ جہاں روزانہ بیسیوں ایسے ظالمانہ واقعات ہوتے ہیں اور ہوتے چلے جارہے ہیں اُن سے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور یہ واقعہ جو کہا جاتا ہے کہ عراق میں ہوا ہے، اس کے اوپر اتنا شور پڑا اور اس شور کے مدھم ہونے سے پہلے ہی یہ بات بھی ظاہر ہو گئی کہ وہ سب جھوٹ تھا اور ایک فرضی بات تھی۔