خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 407

خطبات طاہر جلد ۹ 407 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۰ء چلا جائے گا اور اُن کو مزہ اس بات میں آتا ہے کہ ہماری باتوں کے نتیجے میں یہ دوسری امامت سے ہٹ کر ہماری امامت کے پیچھے لگ جائے گا۔ایسی بعض مثالیں بعض دفعہ مربیوں کی صورت میں بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔بعض مربی کسی ایسی جماعت میں جاتے ہیں جہاں اختلاف ہے اور فوری طور پر دونوں فریق کی طرف سے اُس مربی کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اگر وہ مربی غیر متقی ہو یا پوری طرح غیر متقی نہ ہو لیکن کچھ رخنہ موجود ہو تو بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے مربی سے مقابلہ اور رقابت اُس کو غلط قدم اُٹھانے پر آمادہ کر دیتے ہیں۔وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ پہلے مربی نے تو یہ کام کئے تھے اور میں اب آ کر اس جماعت کے ساتھ ٹھیک سلوک کرنے والا ہوں اور پھر اُس کا رجحان اس طرف شروع ہو جاتا ہے کہ فلاں فریق بہتر ہے اور جو مربی کے ساتھ لوگ تھے وہ غلط ہیں۔چنانچہ بجائے اس کے کہ تفرقہ دور کرے اور توحید کا قیام کرے وہ صرف تفرقہ کی شکل بدلتا ہے۔جو لوگ پہلے مردود تھے اُن کا وہ سردار بن جاتا ہے اور جو پہلے محبوب تھے اُن کا دشمن ہو جاتا ہے اور پھر وہی شکایتوں کا سلسلہ اُسی طرح جاری ہے لیکن بالآخر وہ لوگ پکڑے اور پہچانے جاتے ہیں۔ایک مربی کو میں نے اسی سلسلے میں لکھا۔میں نے کہا مجھے تو اس طرح پتا چل جاتا ہے تم کیسے کام کرتے رہے ہو کہ بعض لوگ جماعت میں سے جو پہلے میری بیعت میں داخل تھے اور میرے مرید تھے اب وہ تمہاری بیعت میں داخل ہو چکے ہیں اور تمہارے مرید بن گئے ہیں۔ان معنوں میں کہ جس امیر سے اُن کو دشمنی ہے کہ جو میرا منتخب امیر ہے جیسا میں چاہتا ہوں کہ اُس سے محبت اور اطاعت کا تعلق کریں وہ اختیار نہیں کرتے اور تمہارے زیادہ تابع فرمان ہیں۔پس وہی مضمون دُعا والا کہ اے خدا! ہمیں غیر متقیوں کا امام نہ بنانا اس طرح بھی جاری ہو جاتا ہے اور وہ غیر متقی اپنے الگ امام بنا لیتے ہیں اور اُن کو خدا مجھ سے کاٹ کر الگ پھینک دیتا ہے۔یعنی میں جب مجھ کہتا ہوں تو یہاں خلافت مراد ہے اور خلیفہ وقت سے اُن کو کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے۔پس اس دُعا کا دائرہ بہت وسیع ہے، یہ دُعا بہت گہری ہے اور اس کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے ساتھ ہماری روحانی زندگی کی صحت وابستہ ہے اور اگر ساری جماعت اس دُعا کو اخلاص کے ساتھ مانگا کرے اور عادت مستمرہ بنالے ،ساری زندگی یہ دُعا مانگے اور سوچ سوچ کر دُعا مانگے اور اپنے حالات پر اس کا اطلاق کرنے کی کوشش کرے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بہت سے جماعت کے